تنازعات کا شکار رہنے والے معروف پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ جنہوں نے گزشتہ تین سالوں میں شہرت حاصل کی۔ وہ اس وقت ملک کے مقبول ترین فیملی ولاگرز میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی پہچان انوکھے مواد، روزمرہ اپ ڈیٹس، اور مسلسل تنازعات میں الجھے رہنے کی وجہ سے ہے۔ ان پر کئی قانونی مقدمات بھی درج ہو چکے ہیں اور وہ ایک تازہ کیس کے باعث ایک بار پھر ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔

اب رجب بٹ اور ان کے قریبی دوست ایک نئے اور سنگین نوعیت کے تنازعے میں پھنس گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق رجب کی نجی ویڈیوز انٹرنیٹ پر لیک ہو گئی ہیں، اور ان پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ اپنی حاملہ بیوی ایمان کو دھوکا دے رہے تھے اور ایک ٹک ٹاکر زہرا ملک کے ساتھ تعلق میں تھے۔ اس کے علاوہ رجب بٹ کے دوست مان ڈوگر، حیدر شاہ اور شازی کی بھی نامناسب ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ نے ویلاگنگ اور پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

رجب بٹ کے دوستوں کا کہنا ہے کہ ان کے موبائل فون ہیک کر لیے گئے تھے اور یہ ویڈیوز وہیں سے چرائی گئی ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ ایسی ویڈیوز کیوں اور کس مقصد کے تحت بنائی گئیں۔ اس معاملے پر رجب بٹ کی جانب سے اب تک کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔

اب رجب بٹ کی اہلیہ ایمان کے بھائی نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ ایمان کے حوالے سے کوئی بات نہ کریں، ایمان کی اگر کوئی بات کرنی ہو گی وہ خود کرے گی، میں کروں گا یا ہماری والدہ کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویسے تو ہمیں سوشل میڈیا پر ایسی کوئی بات کرنی ہی نہیں ہے تو میری سب سے درخواست ہے کہ اس کو ڈسکس نہ کریں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Socialdicted (@socialdicted01)


رجب بٹ پر مبینہ طور پر اسلامی شخصیات کی توہین کا الزام ہے جس پر ان کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کی ویڈیو میں رجب بٹ نے صحابہ کی شان میں توہین آمیز الفاظ کہے۔ حالیہ تنازع کے بعد رجب بٹ ایک بار پھر بیرون ملک چلے گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایمان ٹک ٹاکر رجب بٹ رجب بٹ دوستوں کی ویڈیو لیک رجب بٹ ویڈیوز لیک یوٹیوبر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایمان ٹک ٹاکر رجب بٹ دوستوں کی ویڈیو لیک رجب بٹ ویڈیوز لیک یوٹیوبر سوشل میڈیا

پڑھیں:

روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ

طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔

بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ

دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔

افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل