نوازشریف، مریم نواز سے سفیر امارات کی ملاقات، اشتراک کو وسعت دینے کے خواہاں: وزیراعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
لاہور (نیوز رپورٹر +نوائے وقت رپورٹ) نواز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز سے امارات کے پاکستان میں سفیر حماد عبید ابراہیم سالم الزعابی نے ملاقات کی۔ نواز شریف اور وزیراعلیٰ نے یو اے ای کے سفیر کا پرتپاک اور پرخلوص استقبال کیا اور یو اے ای کی دور اندیش قیادت اور عوام کے لئے اہل پنجاب کی جانب سے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کا پیغام دیا۔ ملاقات میں پاکستان اور امارات کے مابین تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر برادرانہ باہمی تعلقات، اقتصادی شراکت داری، تعلیم، سائنس اور پائیدار ترقی میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ نواز شریف اور مریم نواز نے صدر یواے ای شیخ محمد بن زاید النہیان کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔ مریم نواز نے یو اے ای کی سائنسی ترقی، ماحول دوستی اور جدید وژن کو سراہا۔ عرب امارات کے سرمایہ کاروں، اداروں اور کاروباری برادری کو پنجاب میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت بھی دی۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور یو اے ای کا رشتہ محض سفارتی نہیں بلکہ دلوں میں بسا بندھن ہے۔ پاکستان اور یو اے ای کا باہمی رشتہ وقت اور حالات کی آزمائشوں میں ہمیشہ سرخرو رہا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ یو اے ای کے ساتھ تعلیم، تحقیق اور ماحولیات کے میدان میں اشتراک عمل کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان سرکاری و سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری انٹری کی اجازت قابل تحسین ہے۔ پاک یو اے ای دوطرفہ تجارتی حجم میں اضافہ باعث مسرت ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں کو جدت کی راہ پر گامزن کر دیا۔ پنجاب بزنس فرینڈلی انوائرمنٹ کے ساتھ سرمایہ کاری کے لیے بہترین انتخاب بن چکا ہے۔ علاوہ ازیں مریم نواز نے چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے 98ویں یومِ تاسیس پر حکومتِ چین، چینی عوام اور مسلح افواج کو مبارکباد دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ چین کی مسلح افواج کا قومی و عالمی امن کے لئے کردار قابل تحسین ہے۔ اپنے ’’آہنی بھائی‘‘ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ پاک چین تعلقات صرف ریاستی یا دفاعی مفادات تک محدود نہیں بلکہ یہ دلوں کے رشتے ہیں۔ پاک چین دفاعی اشتراک لازوال دوستی کی روشن علامت ہے۔ پیپلز لبریشن آرمی کی پیشہ ورانہ مہارت، جدید عسکری حکمت عملی اور قومی خدمت کا جذبہ مثالی ہے۔ پاک چین مسلح افواج کے درمیان باہمی اعتماد، تربیتی تعاون اور دفاعی اشتراک وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوا ہے۔ پنجاب حکومت چین کے ساتھ صنعتی ترقی، ماحولیات، زراعت اور تعلیم میں مشترکہ منصوبوں کو مزید فروغ دینے کے لئے پرعزم ہے۔ مریم نواز نے رحیم یار خان کے علاقے شیخانی پولیس چوکی پر کچے کے ڈاکوؤں کے حملے میں 5 ایلیٹ فورس جوانوں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور شہید اہلکاروں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے شہید اہلکاروں کے اہل خانہ سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کو انجام تک پہنچانے کے لئے پر عزم ہیں۔ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن پوری قوت سے جاری رہے گا۔ پنجاب پولیس کے جوانوں نے جانوں کا نذرانہ دے کر عوام کی حفاظت کا حق ادا کیا۔ پولیس شہداء کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، حکومت پنجاب ہمیشہ ساتھ ہے۔’’ایکس‘‘ پر پوسٹ میں مریم نواز نے کہا ہے کہ لاہور میں سموگ کے سد باب کیلئے جدید اور مؤثر ٹیکنالوجی کے استعمال میں پیشرفت جاری ہے۔ دنیا کا پہلا آزمودہ ڈسٹ سسپنشن سسٹم 15 جدید اینٹی سموگ گنز کے ساتھ لاہور پہنچ چکا ہے۔ جدید فوگ کینن باریک پانی کی دھند سے خطرناک فضائی ذرات 2.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا اینٹی سموگ گنز پاکستان اور اور یو اے ای نواز شریف نے کہا کہ کے ساتھ کے لئے
پڑھیں:
نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان
گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔
جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ
یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔
کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔
مزید :