وزیراعظم شہباز شریف دورہ گلگت بلتستان: سیلاب متاثرین سے ملاقات اور امدادی رقوم تقسیم کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف آج ایک روزہ دورے پر گلگت پہنچے جہاں گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ اور وزیراعلیٰ گلبر خان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزرا عبدالعلیم خان، عطا اللہ تارڑ، انجینئر امیر مقام، ڈاکٹر مصدق ملک، مشیر رانا ثنا اللہ اور کوآرڈینیٹر شبیر عثمانی بھی موجود تھے۔
دورے کے دوران وزیراعظم نے بارشوں اور حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد سے ملاقات اور امدادی رقوم بھی تقسیم کریں گے۔ وزیراعظم کو گلگت بلتستان میں بارشوں کے بعد کی صورتحال، نقصانات، اور جاری امدادی و بحالی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
مزید پڑھیں: بھارت کو فاش غلطی کا خمیازہ ضرور بھگتنا ہوگا، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا قوم سے خطاب
وزیراعظم نے گورنر سید مہدی شاہ سے علیحدہ ملاقات بھی کی، جس میں ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت، امن و امان کی صورتحال، اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سیلابی واقعات میں جاں بحق افراد کے لیے دعا بھی کی گئی۔
وزیراعظم نے متاثرین کی بحالی کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گلگت بلتستان گورنر سید مہدی شاہ وزیراعظم محمد شہباز شریف وزیراعلیٰ گلبر خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان گورنر سید مہدی شاہ وزیراعظم محمد شہباز شریف وزیراعلی گلبر خان گلگت بلتستان شہباز شریف
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔