کراچی:

سندھ اسمبلی نے اراکین صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر قادر شاہ کی صدارت میں ہوا جہاں صوبائی وزیرپارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار نے سندھ اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا بل 2025 پیش کر دیا۔

وزیرپارلیمانی امور ضیاالحسن لنجار کی جانب سے پیش کیا گیا مذکورہ بل ایوان میں بل کی مرحلہ وار منظوری دی گئی اور تمام اراکین اسمبلی نے بل کی متفقہ حمایت کی۔

پارلیمانی وزیر ضیاء لنجار نے ایوان میں سندھ بورڈز آف انٹر میڈیٹ و سیکنڈری ایجوکیشن (ترمیم) بل 2025 ایوان میں  پیش کردیا اور کہا کہ یہ بل اس لیے لائیں ہیں کہ 1972کے آرڈیننس میں چیئرمین بورڈ کا عہدہ 20 یا 21 گریڈ کا ہے لیکن اب گریڈ 20 اور 21 کے افسران کو بھی چیئرمین بورڈ لگایا جاسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد اچھے افسران کو بورڈز میں تعینات کرنا ہے، اس سے بورڈز کی کارکردگی بہتر ہوگی۔

رکن اسمبلی صابر قائم خانی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بورڈز کی حالت بہتر ہونی چاہیے، جب بورڈز کے حوالے سے بات ہوئی تو ہم نے کمیٹی کے اجلاس میں تجاویز دی تھیں لیکن ہماری تجاویز کو اہمیت نہیں دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ بورڈز کی خودمختاری برقرار رکھنی چاہیے اور اس بل کو کمیٹی میں بھیج کر دوبارہ اس پر بحث کرنی چاہیے۔

ضیا لنجار نے کہا کہ حکومت کو یہ ترمیم لانا ہی اس لیے پڑی کہ اچھے افسران موجود ہیں، انہیں بورڈز میں تعینات کیا جاسکے گااور ایوان نے بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ اس بل کے ذریعے ہائی کورٹ کسی ایک شخص کا نام بھیجتا ہے، جج لگانے کا تو ہمیں مشکل کا سامنا ہوتا ہے، ہمارے پاس زیادہ آپشن ہونے چاہئیں جبکہ ریٹائرمنٹ کی عمر 65 ہے لیکن یہاں 72 سال عمر کے جج بھی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج لگے ہوتے ہیں، جس سے ہمیں مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اجلاس کے دوران وفقہ سوالات میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رکن فرح سہیل نے کہا کہ مزارات میں کون کو ن سے کام شامل ہیں، کس طرح مزارات کی دوگاہوں سے کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔

پارلیمانی سیکرٹری اوقاف شازیہ سنگہار نے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ درگاہ کی دکانیں تین سال کے لیےکرائے پر دی جاتی ہیں، جس پر فرح سہیل نے پوچھا کہ اگر درگاہ کے مینجر کو کوئی کرایہ ادا نہ کرے تو کیا کیا جاتا ہے اور ایسے کتنے افراد کے خلاف کتنی ایف آئی آر کٹوائی گئی۔

شازیہ سنگہار نے بتایا کہ درگاہ کے مینجر کو اختیار ہے کہ وہ کرایہ ادا نہ کرنے والے دکان دار کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی جا سکتی ہے، محکمے کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جا رہا ہے۔

حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رکن نثار کھوڑو نے کہا کہ بل میں پبلک کمیٹی کا ذکر نہیں ہے، کمیٹی کا مطلب کمیٹی ہوتا ہے چاہے وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کیوں نہ ہو۔

اجلاس کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کے رکن عمار صدیقی نے تحریک استحقاق پیش کی کہ کراچی میں سوئی گیس کی بحالی کا کام کیا جا رہا ہے، اس بحالی کے کام سے میرے حلقے میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

پارلیمانی امور کے وزیر ضیا لنجار نے ایوان میں اینٹی ٹیرازم سندھ ترمیمی بل 2025 پیش کردیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سندھ اسمبلی ایوان میں نے کہا کہ

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی WhatsAppFacebookX 0 24 July, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس )سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائر کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائر کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے،

آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرجارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن