پنجاب بنک، چینی کمپنی میں 150ملین ڈالر سرمایہ کاری کا معاہدہ، شراکت داری بلندیوں تک پہنچانا چاہتے ہیں: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ مریم نواز نے حضرت داتا گنج بخشؒ کے 982ویں عرس کی تقریبات کے آغاز پر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے عرس داتا گنج بخشؒ اور چہلم امام حسینؓ پر امن و امان یقینی بنانے کا حکم دیا اور فول پروف سکیورٹی انتظامات کی ہدایت کی۔ عرس داتا گنج بخشؒ پر آنے والے زائرین کی سکیورٹی اور آسانی کیلئے انتظامات میں بہتری لانے کا حکم دیا اور زائرین کے لئے شاندار مہمان نوازی کی روایات جاری اور لنگر و سبیل کے انتظامات میں مزید آسانیاں لانے کی ہدایت کی۔ داتا دربار کے اردگرد سکیورٹی اور ٹریفک مینجمنٹ پر خصوصی توجہ دینے کا حکم دیا۔ دوسری جانب پنجاب میں چین کی جانب سے تیز ترین سرمایہ کاری کا نیا منفرد ریکارڈ قائم ہوا۔ بینک آف پنجاب اور چیلنج فیشن پرائیویٹ لمیٹڈکے درمیان ایم او یو پر دستخط کیے گئے۔ معاہدے کے تحت چین کے بڑے ٹیکسٹائل کاروباری اداروں میں شامل ’’چیلنج ٹیکسٹائل گروپ‘‘ پنجاب میں 150ملین ڈالر سرمایہ کاری کرے گا۔ پنجاب میں 100ایکڑ پر جدید ترین سپیشل اکنامک زون بنایا جائے گا۔ چیلنج گروپ پنجاب میں ماہانہ 6ملین میٹر فیبرک استعمال کرکے 2سے 8 ملین گارمنٹس پروڈکشن کرے گا۔ چیلنج گروپ کے تحت پنجاب میں پاکستان کی سب سے بڑی ایڈوانس اور جدید ترین ٹیکسٹائل انڈسٹری لگائی جائے گی۔ چیلنج گروپ معروف امریکن برانڈز کے ذریعے گارمنٹس ایکسپورٹ کرے گا۔ چیلنج گروپ کے ذریعے 8ماہ میں 18ہزار اور 5 سال میں 25 ہزار افراد کو نوکریاں ملیں گی۔ چیلنج گروپ گارمنٹ کی تیاری کے لئے خام مال بھی پاکستان سے حاصل کرے گا۔ پراجیکٹ سے سالانہ 100ملین ڈالر سے زائد برآمدات متوقع ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے لاہور میں متعین قونصل جنرل ژاؤ شیریں اور چیئرمین چیلنج گروپ ویگو ہانگ نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پنجاب میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے فروغ اور سرمایہ کاری سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر چیلنج گروپ کے وفد کے سربراہ ویگو ہانگ نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی انویسٹمنٹ فرینڈلی پالیسیوں کو سراہا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا پاک چین تجارتی اور کاروباری شراکت داری کو آئندہ چند برسوں میں مزید بلندیوں تک پہچانا چاہتے ہیں۔ پنجاب میں جدید ترین اور شاندار گارمنٹ سٹی بنارہے ہیں، چیلنج گروپ کی مہارت اور تجربے سے استفادہ کریں گے۔ پنجاب میں گارمنٹ سٹی کی کامیابی کے لئے چیلنج گروپ سے ملکر کام کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت پنجاب سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے بھرپور ساتھ دے گی۔ چین کی بڑی ٹیکسٹائل فیکٹریوں اور اداروں کو پنجاب میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ پنجاب کی تیز ترین صنعتی ترقی کے لئے چیلنج سپیشل اکنامک زون اہم کردار ادا کرے گا۔ جدید ٹیکسٹائل پراجیکٹ کے تحت پلاسٹک ویسٹ کو ری سائیکلنگ کرکے ہائی پرفارمنس فیبرک میں استعمال کیا جارہا ہے۔ حکومت پنجاب ٹیوٹا کے ذریعے نوجوانوں میں فنی مہارت کے فروغ کے لئے بھرپور سرمایہ کاری کررہی ہے۔ صنعتی اداروں کی ضرورت کے لئے مارکیٹ بیسڈ، ہیومن ریسورس فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ چیلنج گروپ کے چیئرمین ویگو ہانگ نے کہا کہ پنجاب میں چین سے بھی بہتر ٹیکسٹائل مشینری اور ٹیکنالوجی لانا چاہتے ہیں۔ پنجاب کی ٹیکسٹائل مارکیٹ میں جدت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی پالیسیاں اور ان کا ویژن حوصلہ افزاء اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے پْر ترغیب ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی پالیسیوں کو دیکھ کر پنجاب آنے کی ترغیب پیدا ہوئی۔ پنجاب میں چین کی حالیہ سرمایہ کاری وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے گزشتہ دورہ چین کا ثمر ہے۔ حکومت پنجاب ہمارے ویژن اور تجارتی مقاصد کے ساتھ ہم رنگ ہیں۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے چین کے معروف اور بڑے ٹیکسٹائل ادارے چیلنج گروپ کے وفد کا لاہور آمد پر خیر مقدم کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف کرنا چاہتے ہیں سرمایہ کاری کے لئے کرے گا
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔