پاک فوج روایتی، غیر روایتی اور ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح لیس ہے، فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
پاک فوج روایتی، غیر روایتی اور ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح لیس ہے، فیلڈ مارشل WhatsAppFacebookTwitter 0 14 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) پاکستان کے 78ویں یوم آزادی کے موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قوم کے نام خصوصی پیغام میں تمام اہلِ پاکستان کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی اور وطنِ عزیز کی خاطر قربانیاں دینے والے بزرگوں اور برصغیر کے مسلمانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان نہ صرف عالم اسلام کا ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر قلعہ ہے بلکہ یہ بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی آزادی کی روشن مثال بھی ہے، جہاں مذہبی اقلیتیں آج بھی ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ دہشتگردی کے عفریت کو شکست دینے کے لیے پاکستان نے بے پناہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے پہلگام کے افسوسناک سانحے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف اس کی شدید مذمت کی بلکہ شفاف عالمی تحقیقات کی پیشکش بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا، تاہم قوم کی حمایت سے مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے آپریشن بنیان مرصوص کیا، جو تاریخ میں افواجِ پاکستان کی بہادری اور ولولہ انگیز جذبے کی علامت بن چکا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کیا کہ پاک فوج روایتی، غیر روایتی اور ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح لیس ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں لیکن اپنی آزادی اور خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے، اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی مہم جوئی کا بلا جھجک فوری جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کی جدوجہد کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو ان کا حقِ خود ارادیت دلانا ہی مسئلے کا واحد منصفانہ اور پائیدار حل ہے۔
آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور عالمی برادری کو فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔
فیلڈ مارشل نے جدوجہد آزادی کے تمام شہدا کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جرات، بہادری اور ایمان سے لبریز عزم ہماری رہنمائی کا چراغ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی تیاری پر مکمل اعتماد ہے اور ہم وطن کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
انہوں نے عہد کیا کہ اپنی تمام تر توانائیاں پاکستان کے استحکام اور ترقی کے لیے وقف کر دیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمعرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص سے آزادی کی خوشیاں دوبالا ہوگئی ہیں، صدر و وزیراعظم ملک بھرمیں یوم آزادی قومی جوش و جذبے کیساتھ منایا جا رہا ہے اسلام آباد: یوم آزادی اور معرکہ حق کی مرکزی تقریب میں ترکیہ اور آذربائیجان کی مسلح افواج کا دستہ بھی شریک جناح اسپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں یومِ آزادی اور معرکہ حق کی مرکزی تقریب جاری،وزیر اعظم کا راکٹ فورس کی تشکیل کا اعلان اعجاز چودھری کی خالی ہونے والی سینیٹ نشست پر ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری مقبوضہ کشمیر میں کل پاکستان کا یوم آزادی بھرپور انداز میں منانے کااعلان،15اگست کو یوم سیاہ منایا جائیگا چہلم پر فول پروف سیکیورٹی کیلئے ملک بھر میں پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز تعیناتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کہ پاکستان فیلڈ مارشل کہا کہ پاک نے کہا کہ انہوں نے پاک فوج کے لیے
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش