وزیر اعظم کی بھارتی ایس 400 دفاعی نظام تباہ کرنیوالے پاک فضائیہ کے پائلٹ کی خصوصی پزیرائی
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کی جانب سے آپریشن بنیان مرصوص کے دوران بھارت کے ایس 400 فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنے والے پاک فضائیہ کے پائلٹ کی خصوصی پزیرائی کی گئی۔
آج ایوانِ صدر میں ہونے والی پروقار تقریب میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سول و عسکری شخصیات کو اعلیٰ اعزازات سے نوازا۔
تابش ہاشمی نے بھارتی طیارہ گرانیوالے اسکواڈرن لیڈر کے ساتھ یادگار تصویر شیئر کر دیمعروف کامیڈین اور میزبان تابش ہاشمی نے آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کے دوران غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کرنے اور بھارتی طیارہ رافیل گرانے والے اسکواڈرن لیڈر کے ساتھ یادگار تصویر شیئر کر دی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق تقریب میں پاک فضائیہ کے افسر ونگ کمانڈر ملک رضوان الحق کو تمغۂ بسالت کا اعزاز عطاء کیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے ونگ کمانڈر ملک رضوان الحق کو اعزاز عطاء کیا اور اس کے بعد انہیں اپنے ساتھ کھڑا کر کے حاضرین سے تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ایس 400 سسٹم کو تباہ کیا، جس پر حاضرین نے تالیاں بجا کر انہیں بھرپور داد دی۔
خیال رہے کہ 10 مئی کو بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے افواجِ پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص میں بھارتی ایئر بیسز اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔
آپریشن بنیان مرصوص کے دوران ہی پاک فضائیہ نے اپنے لڑاکا طیارے جے ایف 17 تھنڈر کے ہائپر سانک میزائل کے ذریعے بھارت کے جدید ترین ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بنیان مرصوص پاک فضائیہ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔