ویرات کوہلی کی جانب سے انسٹاگرام پر بھارت کی ابھرتی ہوئی خوبرو اداکارہ اونیت کور کی تصویر لائیک کی گئی تھی جس پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا۔

بھارتی کرکٹر اور سابق کپتان ویرات کوہلی نے اداکارہ کی تصویر کو لائیک کرنے کو ایک تکنیکی غلطی قرار دیتے ہوئے تمام تر افواہوں کو مسترد کردیا تھا۔

حیران کن طور اداکارہ اونیت کور کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا جس سے سوشل میڈیا پر میمز بننے اور قیاس آرائیوں کے نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ 

تاہم اب جب کہ اونیت کور ان دنوں اپنی فلم "لو اِن ویتنام” کی تشہیر میں مصروف ہیں۔ ان سے ویرات کوہلی کے تصویر لائیک کرنے کے بارے میں پوچھا گیا۔

جس پر اداکارہ نے مسکراتے ہوئے اپنے مداحوں کو جواب دیا کہ "ملتا رہے پیار اور کیا کہہ سکتی ہوں۔”

یاد رہے کہ ویرات کوہلی کے آفیشل انسٹاگرام سے تصویر لائیک ہونا اونیت کور کے لیے نیک شگون ثابت ہوا تھا۔

 صرف چند دنوں میں اداکارہ کے فالوورز کی تعداد میں ایک ملین سے زائد کا اضافہ ہوا، ساتھ ہی انہوں نے 12 نئی برانڈ ڈیلز بھی حاصل کرلیں۔

ذرائع کے مطابق اس ایک واقعے کے بعد اداکارہ کی برانڈ ویلیو میں 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: ویرات کوہلی تصویر لائیک اونیت کور

پڑھیں:

بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز  جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔

صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔

شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔

استعفے کی وجہ کیا ہے؟

صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

آئینی طریقہ کار

صدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔

آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔

شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگی

شیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔

گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔

موجودہ حکومت پر دباؤ

شیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔

اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔

2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے

76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین

متعلقہ مضامین

  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا