ایران میں عالمی جوہری نگرانی کے ادارے کے معائنہ کاروں کی واپسی، یورپی ممالک کے ساتھ اہم مذاکرات
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
اقوامِ متحدہ کی جوہری نگرانی کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کار ایران واپس پہنچ گئے ہیں۔ یہ اقدام ایران اور اسرائیل کے درمیان جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ اور امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایران نے جون کی جنگ کے بعد IAEA سے تعاون معطل کر دیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ یہ ادارہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کی مذمت کرنے میں ناکام رہا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا کے اطاعت کے مطالبے کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا رہے گا، آیت اللہ خامنائی
جوہری نگرانی کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے ایک انٹرویو میں تصدیق کی کہ پہلی ٹیم ایران واپس آگئی ہے اور ہم اپنا کام دوبارہ شروع کرنے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی کئی تنصیبات متاثر ہوئیں اور اب اس بات پر بات چیت ہو رہی ہے کہ معائنہ کاروں کے کام کو دوبارہ کس طریقہ کار کے تحت آگے بڑھایا جائے۔
دوسری طرف ایران نے جنیوا میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں تاکہ ان یورپی طاقتوں کو پابندیوں کے نفاذ سے روکا جا سکے، جس کی وہ دھمکی دے چکے ہیں۔ یہ پابندیاں اگست کے آخر تک فعال ہوسکتی ہیں جس کے بعد 2015 کے ایٹمی معاہدے کے تحت ختم کی گئی اقوامِ متحدہ کی سخت پابندیاں دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ایٹمی معاہدہ: امریکا اور یورپ کا آئندہ ماہ کی آخری تاریخ پر اتفاق
ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے مذاکرات کے بعد کہا کہ یورپی ممالک کے لیے اب وقت آگیا ہے کہ وہ درست فیصلہ کریں اور سفارت کاری کو وقت اور موقع دیں۔
یہ مذاکرات جون کی جنگ کے بعد یورپی سفارت کاروں کے ساتھ ہونے والے دوسرے دور کے ہیں۔ جنگ کا آغاز اسرائیل کے اچانک حملے سے ہوا تھا، جس نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کو بھی متاثر کیا۔
ایران نے IAEA پر بھی جزوی طور پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی وجہ سے جوہری تنصیبات پر حملے ممکن ہوئے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے حملے کیے تاہم ایران بارہا اس دعوے کو مسترد کر چکا ہے۔
واضح رہے کہ 2015 کا ایران جوہری معاہدہ اس وقت کمزور ہوا جب 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل ایران جوہری ادارہ مذاکرات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایران جوہری ادارہ مذاکرات کے بعد
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :