یورپی ادارہ برائے جوہری تحقیق کے وفد کا دورہ پاکستان، وزارتِ خارجہ کا اعلامیہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
یورپی تنظیم برائے جوہری تحقیق یعنی سرن کا ایک اعلیٰ سطحی وفد 24 تا 28 اگست پاکستان کے دورے پر رہا، جس کا مقصد پاکستان کی بطور ایسوسی ایٹ ممبر کارکردگی کا جائزہ لینا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:
ترجمان وزارتِ خارجہ کے مطابق 5 رکنی ماہرین پر مشتمل اس وفد نے پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے چیئرمین سے ملاقات کی اور پاکستان کی سائنسی و تکنیکی ترقی کا جائزہ لینے کی غرض سے مختلف سائنسی و تحقیقی اداروں کا دورہ کیا۔
سیرن دنیا کی سب سے بڑی ذراتی طبیعیات اور جوہری تحقیق گاہ ہے جو جینیوا میں قائم ہے، یورپی ممالک کی شراکت سے ’سائنس برائے امن‘ کے اصول پر وجود میں آنے والی یہ تنظیم اب ایک عالمی تحقیقی مرکز بن چکی ہےم فی الوقت اس کے 25 رکن ممالک اور 9 ایسوسی ایٹ ممبرز ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔
مزید پڑھیں:
پاکستان نے 31 جولائی 2015 کو سیرن کی ایسوسی ایٹ ممبرشپ حاصل کی تھی اور اس کے بعد سے سیرن کے مختلف منصوبوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن سیرن کے ساتھ اس تعاون کی نگرانی کرتا ہے۔
ایسوسی ایٹ ممبر کی حیثیت سے پاکستان کو نہ صرف سائنسی تحقیق کی نئی راہیں ملی ہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور نوجوان سائنسدانوں و انجینئرز کی تربیت کے مواقع بھی میسر آئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایسوسی ایٹ
پڑھیں:
مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
فوٹو: فائلکفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔