تھائی لینڈ: وزیرِاعظم پیتونگتارن شینا وترا کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے جمعے کے روز معطل وزیرِاعظم پیتونگتارن شیناواترا کو اخلاقی بدعنوانی کے الزام میں عہدے سے برطرف کر دیا، عدالت نے انہیں کمبوڈیا کے سابق رہنما ہن سین کے ساتھ ایک متنازعہ فون کال پر قصوروار قرار دیا۔
39 سالہ پیتونگتارن شیناواترا اس طرح 2008 کے بعد عدالتی فیصلے کے ذریعے ہٹائے جانے والی 5ویں وزیرِاعظم بن گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
آئینی عدالت کی 9 رکنی بینچ نے، جسے عام طور پر ملک کے قدامت پسند شاہی حلقوں کا حامی سمجھا جاتا ہے، قرار دیا کہ وزیرِاعظم نے سرکاری عہدے کی اخلاقی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دی۔
https://Twitter.
عدالتی فیصلے کے مطابق، پیتونگتارن کی ہن سین سے جون میں ہونے والی کال کے دوران وہ سابق کمبوڈیائی رہنما کو ’انکل‘ کہہ کر مخاطب کر رہی تھیں جبکہ ایک سینیئر تھائی فوجی کمانڈر کو ’مخالف‘ قرار دے رہی تھیں۔
یہ گفتگو لیک ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی اور سرحدی جھڑپوں نے درجنوں جانیں لے لیں، جبکہ ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے، بعد ازاں 29 جولائی کو ملائیشیا کی ثالثی میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
پیتونگتارن شیناوترا کو عدالت نے یکم جولائی کو مقدمے کے فیصلے تک معطل کر دیا تھا، فیصلے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی نیت ہمیشہ ملک کے مفاد میں رہی اور وہ تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتی ہیں کہ قومی استحکام کے لیے مل کر کام کریں۔
مزید پڑھیں: تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا
’میری نیت ذاتی فائدے کے لیے نہیں تھی، بلکہ عوام اور فوجیوں کی زندگیاں بچانے کے لیے تھی، آج کے فیصلے نے تھائی سیاست کا رخ بدل دیا ہے، اب حکومت، اپوزیشن اور عوام کو مل کر سیاسی استحکام کے لیے کوشش کرنا ہوگی تاکہ دوبارہ کوئی نازک موڑ نہ آئے۔‘
یہ فیصلہ پیتونگتارن شیناوترا اور ان کے والد اور سابق تھائی وزیرِاعظم تھاکسن شیناوترا کے خلاف جاری 3 بڑے عدالتی مقدمات میں سے دوسرا ہے، تھاکسن کو گزشتہ ہفتے شاہی خاندان کی توہین کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔
تاہم ان پر اب بھی یہ مقدمہ چل رہا ہے کہ وہ جیل جانے کے بجائے اسپتال کے خصوصی کمرے میں کیوں رہے، جب وہ 2023 میں 16 سالہ جلاوطنی ختم کر کے تھائی لینڈ واپس آئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئینی عدالت انکل پیتونگتارن شینا وترا تھائی لینڈ تھاکسن شیناوترا شاہی خاندان کمبوڈیا ہن سین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئینی عدالت انکل تھائی لینڈ شاہی خاندان کمبوڈیا تھائی لینڈ کے لیے
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں