تھائی وزیر اعظم کی غیرمحتاط گفتگو ان کی اقتدار سے بیدخلی کا سبب بن گئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
تھائی لینڈ کی آئینی عدالت وزیر اعظم معطل پییٹونگٹارن شیناواترا کے خلاف اہم کیس میں آج (بروز جمعہ) فیصلہ سنانے والی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سزا یافتہ شخص کو وزیر کیوں بنایا؟ تھائی لینڈ کی عدالت نے وزیراعظم کو برطرف کردیا
یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب ان کی ایک لیک شدہ فون کال منظرِ عام پر آئی جس میں انہوں نے کمبوڈیا کے سابق وزیر اعظم ہن سین سے مبینہ طور پر غیر مناسب گفتگو کی تھی۔
اس انکشاف نے ملک میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی اور فوجی و راجائی حلقوں میں شدید ناراضگی کو جنم دیا۔
It's judgement day in Thai politics – yet again.
The Constitutional Court will decide on the fate of Thai PM @ingshin, accused of ethics and integrity violations from her leaked call with Cambodia's Hun Sen.
Here's our @ChannelNewsAsia report on the case and its impact. pic.twitter.com/4Y2pJ7jHWp
— Saksith Saiyasombut | ศักดิ์สิทธิ์ ไสยสมบัติ (@SaksithCNA) August 29, 2025
انگریزی اخبار الجزیرہ میں شائع رپورٹ کے مطابق اگر عدالت نے انہیں برطرف کرنے کا فیصلہ دیا تو پییٹونگٹارن 2008 کے بعد ایسی پانچویں وزیر اعظم ہوں گی جنہیں عدالت یا دیگر اداروں نے اقتدار سے ہٹایا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر پییٹونگٹارن کو برخاست کر دیا گیا تو ملک میں فوری انتخابات یا نئی سیاسی صف بندی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس کیس نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ تھائی سیاست کس حد تک غیر مستحکم ہے اور ادارہ جاتی کشمکش کس طرح جمہوری عمل کو متاثر کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئینی عدالت تھائی لینڈ تھائی وزیراعظم غیر محتاط گفتگو
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئینی عدالت تھائی لینڈ تھائی وزیراعظم غیر محتاط گفتگو
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔