وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے آبی گزرگاہوں اور نالوں کے اطراف سے تمام تجاوزات فوری ہٹانے کا حکم دے دیا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ہدایت تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ آبی گزرگاہوں اور نالوں کے اطراف تجاوزات ہٹانے کے لئے اقدامات کیے جائیں اور تجاوزات ہٹانے کے لئے نوٹس جاری کرکے تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی جائیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مستقبل میں نقصانات سے بچنے کے لئے دریاؤں اور دیگر آبی گزرگاہوں کی ڈی سلٹنگ اور حفاظتی پشتوں کی تعمیر کا ایک بڑا ون ٹائم منصوبہ شروع کیا جائے گا۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت پیر کے روز ایک ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا جس میں حالیہ بارشوں اور سیلابوں سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے کاموں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید کے علاوہ سیکرٹری ریلیف، ڈی جی پی ڈی ایم اے اور متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرزاجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس کو متاثرہ اضلاع میں ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں کی تازہ صورتحال پربریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 411 جاں بحق افراد میں سے 352 کے لواحقین کو معاوضوں کی ادائیگی مکمل کر لی گئی ہے، جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضوں کی مد میں اب تک 704 ملین روپے ادا کئے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسی طرح 132 زخمیوں میں سے 60 کو معاوضوں کی ادائیگی کردی گئی، زخمیوں کو معاوضوں کی مد میں اب تک 30 ملین روپے ادا کئے گئے ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ متاثر علاقوں میں تمام تباہ شدہ نجی املاک کا ڈیٹا اکٹھا کر لیا گیا ہے جبکہ 571 مکمل تباہ شدہ گھروں میں سے 367 گھروں کے مالکان کو معاوضوں کی ادائیگی ہوچکی ہے۔ 1983 جزوی طور پر متاثرہ گھروں میں سے اب تک 1094 گھروںکے مالکان کو معاوضوں کی ادائیگی کردی گئی ہے۔

متاثرہ گھروں کے معاوضوں کی مد میں اب تک 595 ملین روپے ادا کئے گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ معاوضوں کی ادائیگی کا عمل اگلے ایک دو روز میں مکمل کر لیا جائے گا۔

شرکا کو بتایا گیا کہ اب تک متاثرہ خاندانوں میں 29631 فوڈ پیکیج کی رقوم تقسیم کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ باقی ماندہ معاوضوں کی ادائیگی کے عمل کو تیز کیا جائے اور معاوضوں کی ادائیگی کے فوری بعد بحالی کے عمل کا آغاز کیا جائے گا، جس کے لئے تمام تیاریاں مکمل رکھی جائیں۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ سیلاب سے متاثرہ تمام سرکاری انفراسٹرکچرز کا ڈیٹا جمع کرنے کا عمل بھی جلد مکمل کیا جائے جبکہ ڈپٹی کمشنرز سرکاری انفراسٹرکچر کی بحالی کے سارے عمل کی خود نگرانی کریں۔

تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے پی سی ونز دفتروں میں بیٹھ کر نہیں فیلڈ میں جا کر بنائے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ مستقبل میں نقصانات سے بچنے کے لئے دریاؤں اور دیگر آبی گزرگاہوں کی ڈی سلٹنگ اور حفاظتی پشتوں کی تعمیر کا ایک بڑا ون ٹائم منصوبہ شروع کیا جائے گا۔

ڈپٹی کمشنرز اپنے اپنے اضلاع میں اس حوالے سے ترجیحات کا تعین کریں، منصوبے پر عملدرآمد کے لئے ڈپٹی کمشنر اپنے اپنے اضلاع میں واٹر ویز میں گزشتہ چالیس سالوں کے دوران پانی کی مقدار کا ڈیٹا مرتب کریں اور اس ڈیٹا کی بنیاد پر آبی گزرگاہوں کی ڈی سلٹنگ کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام ڈپٹی کمشنرز آبی گزرگاہوں اور نالوں کے اطراف تجاوزات ہٹانے کے لیے اقدامات کریں۔ تجاوزات ہٹانے کے لئے نوٹس جاری کئے جائیں جس کے بعد تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں عمل میں لائی جائیں۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ تباہ شدہ اسکولوں اور صحت مراکز کو فوری بحال کرنے کے لئے پری فیب اسٹرکچرز کی تنصیب پر ہوم ورک کیا جائے جبکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں۔

علی امین گنڈا پور نے اپنی گفتگو میں کہاکہ حالیہ سیلابوں میں سول انتظامیہ نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، بحالی کے عمل بھی اسی طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے، ہماری انتظامیہ نے ہنگامی حالت میں جس طرح فوری رسپانس دیا اس کی ملک کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

 ریسکیو آپریشنز کے بعد جس تیزی سے لوگوں کو ریلیف کی فراہمی اور متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگیاں کی گئیں وہ بھی لائق تحسین ہے۔یہ صوبے میں ہماری بہتر گورننس کا واضح ثبوت ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کو معاوضوں کی ادائیگی تجاوزات ہٹانے کے آبی گزرگاہوں ڈپٹی کمشنرز تباہ شدہ کیا جائے ہدایت کی بحالی کے جائے گا کے لئے

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی