رینجرز اہلکاروں پر حملہ کیس میں ایم کیو ایم کارکن کی اپیل پر فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
1998 میں لیاقت آباد میں رینجرز اہلکاروں پر قاتلانہ حملے کے کیس میں ایم کیو ایم کے کارکن عبید عرف کےٹو کی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل پر سندھ ہائیکورٹ نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایم کیو ایم کارکن عبید کے ٹو کو 26 برس قبل کیے گئے قتل پر سزا سنادی گئی
سماعت کے دوران جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ 27 سال پہلے کراچی میں قتل ہوا اور ملزم گھومتا رہا، کسی نے گرفتار کیوں نہیں کیا؟
اس وقت کے آئی جی اور حکومتی ذمے داروں کو جیل میں نہیں ڈال دینا چاہیے؟ پولیس اور حکومت کیا کر رہی تھی؟
وکیل صفائی نے دلائل دیے کہ اس کیس کا دو بار پہلے ٹرائل ہو چکا ہے، فوجی عدالت میں بھی ٹرائل ہوا تھا۔ ایم کیو ایم مرکز 90 سے گرفتار تمام ملزمان رہا ہوچکے ہیں، صرف عبید کےٹو جیل میں ہے۔
جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ ملزم کون سی نمازیں پڑھ رہا تھا، دودھ کا دھلا ہے؟ ریکارڈ سب کچھ بتا رہا ہے، ہم نے تو کیس سن کر قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔
وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ عبید کےٹو 2015 سے گرفتار ہے جبکہ اس کیس میں 2021 میں گرفتاری ڈالی گئی۔
جسٹس عمر سیال نے مزید ریمارکس دیے کہ پتہ تو ملزم کو بھی ہے اس نے کیا کچھ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قائد ایم کیوایم الطاف حسین کا سیاسی ناکامی کا اعتراف، کارکنوں کو حلف سے آزاد کردیا
پراسیکیوٹر اقبال اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے اعتراف جرم کیا، اے ٹی سی نے قانون کے مطابق سزا سنائی، ملزم بری کیے جانے کا حقدار نہیں ہے۔
پولیس کے مطابق 1998 میں ملزمان نے لیاقت آباد میں رینجرز اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی، جس سے سپاہی دلدار حسین شہید اور حوالدار ممتاز علی زخمی ہوئے تھے۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے 2024 میں ملزم عبید کےٹو کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایم کیو ایم پاکستان رینجر رینجرز رینجرز کارکن کراچی رینجرز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم پاکستان رینجر رینجرز کارکن کراچی رینجرز ایم کیو ایم عبید کے دیے کہ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔