کینیڈا کے ریسٹورینٹ کا 81 فٹ ریکارڈ ساز کباب بنانے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
کینیڈا کے ایک ریسٹورینٹ نے 81 فٹ لمبا بیف کباب بنا کر گینیز ورلڈ ریکارڈ پر نظریں جما لیں۔
کینیڈین صوبے اونٹاریو کے ایک شہر ونڈسر میں واقع اسموکیز بی بی کیو نامی ریسٹورینٹ نے بدھ کے روز پِسے ہوئے بیف کا کباب ریپ بنانے کا چیلنج اٹھایا اور 81 فٹ لمبا ریپ بنا ڈالا۔
View this post on Instagram
A post shared by Smokies BBQ (@s.
اسموکیز کی جانب سے ریکارڈ کے لیے گینیز ورلڈ ریکارڈز شواہد جمع کرا دیے گئے ہیں اور منظوری کی صورت میں ریسٹورینٹ یہ ریکارڈ رکھنے پہلا ریکارڈ ہولڈر ہوگا۔
اسموکیز کے مالک ٹائگرن کیدفچین کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ یہ ریسٹورینٹ پہلا ہے جس نے یہ کوشش کی۔ اسی فٹ کا کباب بری کوشش نہیں ہے۔ اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے اور ٹیم مزید بہتری کے ساتھ واپس آئے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔