سیلابی ریلا آج ہیڈ پنجند اور 2 دن بعد گڈو بیراج پہنچے گا
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
فائل فوٹو
بھارتی کی جانب سے چھوڑا جانے والا سیلابی ریلہ آج ہیڈ پنجند اور دو روز بعد گڈو بیراج پہنچے گا۔
گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 42 ہزار 153 کیوسک جبکہ پانی کا اخراج 3 لاکھ 10ہزار 408 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 31 ہزار 230 کیوسک اور پانی کا اخراج 2 لاکھ 75 ہزار 850 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 47 ہزار 186 کیوسک اور پانی کا اخراج 2 لاکھ 9 ہزار 431 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
ہیڈ پنجند میں پانی کی آمد 2 لاکھ 27 ہزار 710 کیوسک ریکارڈ اور پانی کا اخراج 2 لاکھ 13 ہزار 740 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب وزیر زراعت محمد بخش مہر نے گڈو بیراج اور کندکھوٹ کشمور بند کا دورہ کیا۔
اس موقع پر وزیر زراعت سندھ محمد بخش مہر کا کہنا تھا کہ خطرے کی بات نہیں، 7 لاکھ کیوسک کا ریلا آنے کی توقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کیوسک ریکارڈ کیا گیا پانی کا اخراج پانی کی ا مد گڈو بیراج
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔