‘سیلاب کی تباہی سے بچنے کیلئے آبی گزرگاہوں کے راستوں سے ہوٹل اور آبادیوں کو ہٹانا ہو گا، مصدق ملک ‘ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 September, 2025 سب نیوز


اسلام آباد(آئی پی ایس) وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ اگلے سال سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے آبی گزرگاہوں کے راستوں میں بنے ہوٹلز اور آبادیوں کو ہٹانا ہوگا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصدق ملک کا کہنا تھا 70، 75 میں چوتھی بار اتنے بڑے پیمانے پر سیلاب آیا ہے، اندازہ ہے کہ آئندہ سال مون سون 15 دن پہلے اور طویل ہوگا، معمول کے سیلاب سے نمٹنے کےلیےحکمت عملی طے کرنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبی گزرگاہوں میں بنے ہوٹل تمام امیر طبقے کے ہیں، آبی گزرگاہوں کو صاف کرنا اور نالوں کے ارد گرد آبادی ہٹانا ضروری ہے، ندی نالوں کے قریب آبادیوں کو محفوظ جگہ دی جائے تو تباہی سے بچ جائیں گے، 300 دن ہیں شہروں میں نکاسی آب کا نظام وسیع اور بہتر کرنا ہوگا۔

مصدق ملک کا کہنا تھا اس وقت تریموں اور پنجند پر پانی کا بہاؤ زیادہ ہے، کوشش ہے کہ یہاں پانی 7 یا 8 لاکھ کیوسک رہے، کوشش ہے کہ پانی کا بہاؤ 7 سے 8 لاکھ کیوسک ہو تاکہ آگے علاقے زیادہ متاثر نہ ہوں، پانی کا زور توڑنے کے لیے بعض مقامات پر ہمیں بند توڑنا پڑتا ہے، بھارت نے ڈیم کے گیٹ ٹوٹنے کے بعد اندرا گاندھی کینال میں پانی چھوڑ دیا تھا۔

دوسری جانب پروگرام میں شریک وزیر آب پاشی سندھ جام خان شورو نے کہا کہ سمندر کو پانی دیں گے تو ایکو سسٹم چلے گا، بھارت کے مقابلے میں ہمیں اپنے حقیقی مطالبات کے ساتھ جانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ قادر آباد پرجب کٹ لگایا گیا تو پانی 10 لاکھ کیوسک اور ہیڈ پر گنجائش 8 لاکھ تک تھی، پنجاب کے پاس ایڈوانٹیج ہے کہ شگاف کے بعد پانی گھوم پھر کردریا میں آجاتا ہے لیکن سندھ میں شگاف کے بعد پانی واپس سمندر میں نہیں آتا اس لیے یہاں یہ آپشن نہیں ہے۔

جام خان شورو کے مطابق قادر آباد سے تونسہ تک 5 لاکھ کیوسک پانی پہنچا، پانی وہاں دریاؤں میں پھیل گیا، ہمارے پاس پانی کی ضرورت 127 ایم ایف ہے، تمام سیلاب کو ملاکر بھی 115 ایم ایف آتا ہے، ہمارے پاس ضرورت کا پانی نہیں تو سمندر کیلئے پانی کہاں سے بچے گا۔

وزیر آب پاشی نے مزید کہا کہ خریف میں سندھ پکار رہا ہوتا ہے کہ پانی دیں، صوبوں کے ضرورت کے مطابق پانی نہیں ملتا، ہم نے 3 دریا بھارت کو دیے بھارت نے 33 ایم ایف پورا پانی استعمال کر لیا، بھارت کی ریکوائرمنٹ 8 ایم ایف تھی اور ہم نے 33 ایم ایف پانی دے دیا، پانی زیادہ ہو تو منیج کرنے کے لیے بند میں شگاف ڈالنا پڑتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا و اسرائیل کیلئے جاسوسی کا شبہ، یمن میں اقوام متحدہ کے 11 اہلکار گرفتار چین کا انسداد دہشت گردی کی استعداد کار بڑھانے میں پاکستان کو مدد فراہم کرنے کا اعلان خیبرپختونخوا کابینہ اجلاس جمعہ کو ہوگا، ایجنڈا جاری اسلام آباد، پنجاب اورخیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلیکے شدید جھٹکے، شدت 5.

9 ریکارڈ گجرات میں ریکارڈ بارش: اربن فلڈنگ سے گھر، کاروباری مراکز اور سرکاری عمارتیں ڈوب گئیں، درجنوں دیہات زیرِ آب پاکستان اور چین کا سی پیک فیز ٹو اور 5 نئے کوریڈورز قائم کرنے کا فیصلہ عمران خان اور بشری بی بی کیخلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کل ہوگی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بی گزرگاہوں لاکھ کیوسک مصدق ملک ایم ایف کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ

قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور  مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔

سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی