یو اے ای اگلی بڑی کرکٹ طاقت بنے گا،گلف جائنٹس کے کوچ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
دبئی :گلف جائنٹس کے ہیڈ کوچ اور سابق جنوبی افریقہ کے انٹرنیشنل کرکٹر جوناتھن ٹراٹ نے کہا ہے کہ یو اے ای اگلی وہ ٹیم ہوگی جو عالمی سطح پر حقیقی بریک تھرو کرے گی۔
ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20 ڈویلپمنٹ ٹورنامنٹ کے اختتام پر اظہار خیال کرتے ہوئے ٹراٹ نے کہا کہ اس ایونٹ نے مقامی کرکٹرز کو نکھارنے اور ان کے کھیل کو عالمی معیار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجربہ آئندہ ہونے والے پلئیرز آکشن کے لیے بھی نہایت قیمتی ہے۔ٹراٹ نے کہا کہ یہ میرا گلف جائنٹس کے ساتھ پہلا سال ہے اور میں اس موقع پر بے حد پرجوش ہوں۔ مقامی اور قدرتی ٹیلنٹ دیکھنا بہت خوشی کی بات ہے۔ستمبر کے آخر میں ہونے والا آکشن شاندار اور دلچسپ ہوگا، یہاں سے کھلاڑیوں کی اصل صلاحیت اور دباؤ میں کارکردگی دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
ایسی لیگز یو اے ای کے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی اسٹارز کے ساتھ کھیلنے اور سیکھنے کا بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی ٹیم نے فرنچائز کرکٹ سے فائدہ اٹھا کر عالمی سطح پر اپنی پہچان بنائی، یو اے ای کے کھلاڑیوں کو بھی یہی فائدہ حاصل ہوگا۔ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20 سیزن 4 کاآغاز یو اے ای کے قومی دن پر 2 دسمبر کو ہوگا جس میں 34 ٹیمیں مدمقابل ہوں گے۔
میچزٹراٹ نے کہا کہ یو اے ای کرکٹ ٹیم ایشیا کپ کے لیے کوالیفائی کر چکی ہے جو ایک دہائی بعد ممکن ہوا، اور اس میں آئی ایل ٹی 20 کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یو اے ای کے پاس بہترین سہولیات، کھیل کے لیے جذبہ اور وافر ٹیلنٹ موجود ہے۔ یہ کامیابی کا مکمل نسخہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ جلد ہی انٹرنیشنل کرکٹ میں بڑی کامیابی حاصل کریں گے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یو اے ای کے نے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔