نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کیخلاف ہنگامے پھوٹ پڑے؛ 14 مظاہرین ہلاک؛ کرفیو نافذ
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف نوجوان بڑے پیمانے پر سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کیا جس نے تشدد کی شکل اختیار کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق "جنریشن زی" احتجاج نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے علاقے مائتیگھرا میں ایک قومی یادگار کے مقام سے شروع ہوا۔
اس احتجاج کا انعقاد نوجوانوں کے سماجی تنظیم ہامی نیپال نے کیا جسے 2015 میں قائم کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی مطالبہ قانون کی بالادستی، شفافیت اور انصاف ہے۔
مظاہروں میں ہزاروں نوجوان اسکول اور کالج یونیفارم پہن کر جمع ہوگئے اور سڑک کو بلاک کرکے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے۔
نوجوانوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن کے خلاف بھی ناراضی کا اظہار کیا اور بدعنوان حکومت سے استعفے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کرنے والے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ٹیکس کی وصولی تو کی جاتی ہے لیکن ان کا حساب کتاب موجود نہیں۔
علاوہ ازیں سیاستدانوں کے بچوں کی شاہانہ زندگیوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جس نے عوامی غصے کو مزید بڑھایا۔
صورتحال اس وقت بگڑی جب کچھ مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹیں توڑ کر پارلیمنٹ میں داخل ہوگئے۔ جس پر پولیس نے آنسو گیس، واٹر کینن اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔
عینی شاہدین کے مطابق کئی افراد خون آلود حالت میں ایمبولینسوں میں لے جائے گئے۔ اب تک 14 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
درجنوں زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ نیشنل ٹراما سینٹر کے ڈاکٹر دیپیندرا پانڈے نے بتایا کہ کم از کم 10 افراد کو سر اور سینے میں گولیاں لگیں اور ان کی حالت نازک ہے۔
ان جھڑپوں کے بعد دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا لیکن اب تک صورت حال پولیس کے قابو سے باہر ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ برسوں میں کئی بڑے اسکینڈلز منظرعام پر آئے لیکن اب تک کسی تحقیقات کے شفاف نتائج سامنے نہ آئے۔
کرپشن کے ان کیسز میں 2017 کا ایئربس معاہدہ بھی شامل ہے جس میں نیپال ایئرلائنز کو دو A330 طیارے خریدنے پر قومی خزانے کو 1.
کئی اعلیٰ حکام کو کرپشن کے الزام میں سزا بھی سنائی گئی لیکن عوامی اعتماد بحال نہ ہوسکا۔
یاد رہے کہ نیپال میں حکومت نے فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، لنکڈ اِن اور یوٹیوب سمیت 26 بڑی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پابندی عائد کردی۔
حکومت نے ان پلیٹ فارمز کو 3 ستمبر تک رجسٹریشن کی مہلت دی تھی تاکہ وہ مقامی نمائندہ اور شکایات کے ازالے کے لیے ذمہ دار شخص مقرر کریں۔
چند پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک اور وائبر نے رجسٹریشن کرائی بھی تھی لیکن اکثر نے حکومتی احکامات پر کان نہ دھرے جس پر اُن ویب سائٹس پر پابندی لگا دی گئی۔
واضح رہے کہ نیپال کی 30 ملین آبادی میں سے تقریباً 90 فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور تقریباً 7.5 فیصد لوگ بیرونِ ملک مقیم ہیں یہ پابندی عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر پابندی
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔