عدالتی فیسوں اور سکیورٹیز میں اضافے کے رولز معطل، 1980 کے قواعد بحال
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
عدالتی فیسوں اور سکیورٹیز میں اضافے کے رولز معطل، 1980 کے قواعد بحال WhatsAppFacebookTwitter 0 10 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی فیسوں اور سکیورٹیز میں اضافے سے متعلق نئے قواعد کو معطل کر دیا ہے، اس فیصلے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ رولز 2025 کے تحت نافذ کئے گئے عدالتی فیسوں میں اضافے کے قواعد کو معطل کر دیا گیا ہے اور اب عدالتی فیسیں صرف سپریم کورٹ رولز 1980 کے تحت ہی واجب الادا ہوں گی۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ 1980 کے قواعد کے مطابق ہی عدالتی فیسوں اور سکیورٹیز کے پرانے نرخ بحال کر دیئے گئے ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت فل کورٹ اجلاس میں عدالتی فیسوں اور سکیورٹیز میں اضافے کے رولز کو معطل کیا گیا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے وکلاء اور سائلین کو وقتی طور پر ریلیف حاصل ہوگا، جبکہ عدالتی اصلاحات سے متعلق مستقبل میں مزید مشاورت متوقع ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپوری امت مسلمہ حماس کے ساتھ کھڑی ہے، فضل الرحمان کی دوحا میں اسرائیلی حملے کی مذمت پوری امت مسلمہ حماس کے ساتھ کھڑی ہے، فضل الرحمان کی دوحا میں اسرائیلی حملے کی مذمت اسٹیٹ بینک کے مالی امور میں 243 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف سی پیک فیز ٹو پاکستان اور چین کے تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا نادر موقع ہے، عاطف اکرام شیخ پنجاب پولیس کی خاتون افسر نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر دیا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین کے وارنٹ گرفتاری جاری افغان سر زمین سے دہشتگرد ہمارے بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے آتے ہیں: خواجہ آصفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں اضافے کے کے قواعد
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔