پنجند کے مقام پر دریا میں پانی کی آمد اور اخراج میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
محکمہ اطلاعات سندھ نے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کردیے۔
محکمہ اطلاعات سندھ نے صوبائی رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل کے اعداد و شمار جاری کیے جس کے مطابق پنجند کے مقام پر پانی کی آمد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجند کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج کا بھاؤ 5 لاکھ 81 ہزار 913 کیوسک تک پہنچ گیا ہے جبکہ تریمو پر ان فلو اور آئوٹ فلو 2 لاکھ 37 ہزار 121 کیوسک ہے۔
محکمہ اطلاعات کے مطابق گڈو بیراج پر ان فلو چار لاکھ 95 ہزار 509 کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ اخراج 4 لاکھ 72 ہزار کیوسک تھا۔ اسی طرح سکھر بیراج پر ان فلو 402835 کیوسک اور آؤٹ فلو 382,355 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق کوٹری بیراج پر ان فلو 257754 کیوسک اور آئوٹ فلو 254354 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
محکمہ اطلاعات سندھ کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل سے مسلسل صورت حال کی نگرانی کی جارہی ہے جبکہ سندھ حکومت کے ماتحت ادارے بھی الرٹ ہیں۔
پراونشل رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل
حکومت سندھ
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ اطلاعات پر ان فلو کے مطابق پانی کی
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔