سکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی، بھارتی سپانسرڈ 4دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
سکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی، بھارتی سپانسرڈ 4دہشتگرد ہلاک WhatsAppFacebookTwitter 0 12 September, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(سب نیوز)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں انٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کے دوران 4 بھارتی سپانسرڈ دہشت گرد ہلاک کر دیئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن ہندوستانی پراکسی، فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع کیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو موثر طریقے سے نشانہ بنایا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں 4 بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے، علاقے میں پائے جانے والے دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے سینی ٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز ہندوستانی سپانسرڈ دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرطالبان مخالفین سے ملاقاتوں کا الزام، افغان حکومت نے سینیئر بھارتی سفارتکار کو ملک بدر کردیا طالبان مخالفین سے ملاقاتوں کا الزام، افغان حکومت نے سینیئر بھارتی سفارتکار کو ملک بدر کردیا نجی سکولوں کو مفت کتابوں کی فراہمی،سرکاری گاڑی کی چوری کا کیس ، سابق ممبر اکیڈمک امتیاز علی قریشی سمیت دیگر ملزمان سے متعلق... کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑا جنسی اسکینڈل، ملزم کا 100 بچوں سے زیادتی کا اعتراف بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کی آڑ میں اپنے ہی شہریوں کو بھون ڈالا، 10ہلاک ٹی چوک فلائی اوور منصوبہ اسلام آباد، راولپنڈی کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا، وزیراعظم اسلام آباد کے شہریوں کیلئے اچھی خبر، تمام ہائکنگ ٹریلز کو کھول دیا گیا
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بھارتی سپانسرڈ سکیورٹی فورسز
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔