واشنگ مشین پر لڑائی، امریکی ملازم نے بھارتی ہوٹل مالک کا سر قلم کردیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
امریکی شہر ڈلاس میں ایک بھارتی نژاد شخص کا اِس کے ملازم نے معمولی تنازع کے بعد تیز دھار آلے سے سر قلم کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق امریکا میں رہائش پزیر 50 سالہ چندرا ناگمالیہ بھارتی ریاست کرناٹک سے تعلق رکھتا تھا۔
بدھ کے روز اِس کی اپنے ہوٹل کے ملازم سے واشنگ مشین استعمال نہ کرنے کے حوالے سے بحث ہوئی، چونکہ مشین خراب تھی، ناگمالیہ نے ملازم کو مشین کے استعمال سے روک دیا اور دوسرے ملازم کے ذریعے اسِے یہ ہدایت ترجمہ کروا کر دی جس پر امریکی ملازم برہم ہو گیا۔
امریکی پولیس کی رپورٹ کے مطابق ملزم نے اچانک ایک بڑی چھری سے ناگمالیہ پر حملہ کر دیا اور اِس پر کئی بار وار کیا، زخمی ہونے کے باوجود ناگمالیہ بھاگ کر ہوٹل کے دفتر کی جانب بڑھا مگر ملزم نے اِس کا پیچھا کیا، اس دوران مقتول کی اہلیہ اور 18 سالہ بیٹا بھی دفتر سے باہر نکل آئے اور ملزم کو روکنے کی کوشش کی مگر ملزم نے اِنہیں پیچھے دھکیل دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق ملزم نے ناگمالیہ کا سر قلم کر دیا اور اسے ٹھوکریں مارتا رہا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ملزم نے مقتول کا کٹا ہوا سر کچرے کے ڈبے میں بھی پھینکنے کی کوشش کی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے ملزم کو اسی وقت گرفتار کیا جب وہ خون آلود حالت میں ہاتھ میں چھری لیے ڈمپنگ ایریا کی جانب جا رہا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ملزم یورڈانِس کوبوس مارٹینیز پر ’کیپیٹل مرڈر‘ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ریکارڈ کے مطابق ملزم کے خلاف ہیوسٹن میں پہلے بھی کئی مقدمات درج ہو چکے ہیں جن میں گاڑی چوری اور حملے کے واقعات شامل ہیں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا کے مطابق کے مطابق ملزم
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔