کراچی:

وفاقی وزارت تعلیم نے کراچی میں غیر رسمی تعلیم کے منصوبے کے تحت 100 چٹائی اسکولوں(کمیونٹی اسکولز) کا افتتاح کردیا،غیر رسمی تعلیم کے چٹائی اسکولوں کا افتتاح وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ہفتہ کو لیاقت لائبریری میں منعقدہ ایک تقریب میں کیا۔

اس موقع پر اسکولوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز کے ڈائریکٹر جنرل نان فارمل ایجوکیشن حمید خان نیازی نے بتایا کہ بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز(BECS) کے ماڈل میں پہلی سے 5 ویں جماعت تک کا نصاب 30 ماہ میں مکمل کرایا جائے گا، وفاقی  وزیر تعلیم کی کوشش سے اب 100 اسکولوں کا یہ پیکج کراچی میں متعارف کروادیا گیا ہے۔

 "ایکسپریس " کو تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ اسکولوں مختلف کمیونٹی کے لوگوں نے اپنے گھروں پر کھولے ہیں جہاں آئوٹ آف اسکولز چلڈرن کو تعلیم دی جائے گی، وزارت تعلیم نے ان اسکولوں کو طلبہ کے بیٹھنے کے لیے چٹائیاں اور تدریس سے متعلق تمام بنیادی اور ضروری سامان فراہم کردیا ہے۔

  ان اسکولوں میں 8 سے 16 سال تک کے بچے  آسکیں گے یہ بچے پانچویں جماعت کا امتحان دے کر ٹیکنیکل ایجوکیشن میں بھی آسکیں گے، یکم اکتوبر سے اس سلسلے میں اساتذہ کی تربیت شروع کررہے ہیں جو ان اسکولوں میں پڑھائیں گے۔

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت تمام منتخب نمائندوں اور سب کی ذمے داری ہے کہ ان اسکولوں کو چلائیں اور بچائیں،  بدین ، قمبر ، گھوٹکی میں یہ اسکول پہلے ہی سیکڑوں میں موجود تھے لیکن کراچی میں 35 اور حیدرآباد میں کوئی اسکول نہیں تھا کراچی ملک کا امیر ترین شہر لیکن تناسب کے لحاظ سے سب سے غریب لوگ رہتے ہیں۔

اس شہر کے اسکولوں کو ہم چٹائیاں دے رہے ہیں جو سندھ کو ریونیو کا 97 فیصد اور پاکستان کو 60 فیصد دیتا ہے ، یہ شہر ملک کو پالنے کی ذمے داریاں قبول کررہا ہے، وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ  18ویں ترمیم کے بعد ایسا لگتا تھا کہ سندھ کے شہری علاقے کے لوگ تعلیم کا اپنا حق کھو چکے ہیں لیکن ہم نے ان اسکولوں کو کھولنے کے لیے قانونی جدوجہد تک کی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم ان 100 اسکولوں اور کئی  جامعات کو یہاں لے کر آئی ہے، ہم بانیان پاکستان کی اولادوں کی حیثیت سے عوام کی نمائندگی کررہے ہیں جبکہ ایوانوں میں مزدوروں اور کسانوں کی نمائندگی سرمایہ دار اور ہماری نمائندگی چند خاندان کررہے ہیں، ہم 21ویں صدی میں اپنے بچوں کو چٹائی پر پڑھائیں گے لیکن ضرور پڑھائیں گے۔

 وزیر تعلیم نے کہا کہ میں کراچی کی جامعات سے کہوں گا کہ ان نان فارمل ایجوکیشن کے اسکولوں کو چلائیں، لیاقت لائبریری کی سماعت گاہ میں منعقدہ اس تقریب میں اسکولوں کے طلبہ نے تعلیم کی اہمیت و افادیت اور غیر رسمی تعلیم پر ٹیبلو بھی پیش کیا جسے بے حد سراہا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیر تعلیم ان اسکولوں اسکولوں کو کراچی میں تھا کہ

پڑھیں:

کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق

شہر قائد کے علاقے مواچھ گوٹھ میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مواچھ گوٹھ کے نور شاہ محلے میں 7 سالہ بچہ کھلے مین ہول میں گرکر جاں بحق ہوا جس کی شناخت جہانگیر کے نام سے کی گئی۔

ایس ایچ او موچکو واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ بچہ گھر کے قریب کھیلتے ہوئے کھلے مین ہول میں گرا۔

کھلے مین ہول میں گرکر بچے کی ہلاکت پر اہل خانہ شدت غم سے نڈھال ہوگئے اور واقعے کے بعد علاقہ مکینوں میں شدید اشتعال پھیل گیا۔

مواچھ گوٹھ میں کھلے مین ہول میں گرنے سے بچے کی ہلاکت کے بعد علاقہ مکینوں نے بچے کی میت رکھ کر احتجاج کیا اور حب ریور روڈ و ناردرن بائی پاس پر ٹریفک کو بند کردیا۔

 

متعلقہ مضامین

  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی میں ملازمتوں کا اعلان، درخواست دینے کا طریقہ کار جانیے
  • سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک
  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا