پاک بھارت میچ کے بائیکاٹ کی باتیں کرنے والوں کو سنیل شیٹی کا مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
بھارت اور پاکستان کے درمیان ایشیا کپ 2025 کے میچ پر اداکار سنیل شیٹی کا ردعمل سامنے آگیا۔
سنیل شیٹی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کھیلوں کے عالمی قوانین و ضوابط پر عمل کرنا ضروری ہے کیونکہ اس میں صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ دیگر کھیل اور کئی کھلاڑی بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بحیثیت بھارتی یہ ہمارا ذاتی فیصلہ ہے کہ ہم یہ میچ دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں، جانا چاہتے ہیں یا نہیں، یہ فیصلہ سب کو خود لینا ہے لیکن آپ کرکٹرز کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ وہ کھلاڑی ہیں اور ان کا کام ملک کی نمائندگی کرنا ہے۔
بھارتی اداکار نے مزید کہا کہ یہ آپ پر ہے کہ آپ میں سے ہر کوئی کیا کرنا چاہتا ہے۔ یہ بی سی سی آئی کے ہاتھ میں نہیں، یہ ایک عالمی اسپورٹنگ باڈی کا معاملہ ہے اور آپ کسی کو الزام نہیں دے سکتے۔
واضح رہے کہ ایشیا کپ 2025 کے سب سے بڑے میچ میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں پاکستانی وقت کے مطابق رات 7:30 بجے دبئی اسٹیڈیم میں آمنے سامنے آئیں گی۔
دونوں ممالک کے درمیان مئی میں ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد یہ پہلا مقابلہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔