اسرائیل اور غزہ کا معاملہ پیچیدہ ہے مگر حل ہوجائے گا، افغانستان سے بگرام ایئربیس واپس لینا چاہتے ہیں، ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 18 September, 2025 سب نیوز

لندن (آئی پی ایس )امریکی صدر اور برطانوی وزیراعظم نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطی میں انسانی بحران ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، پیوٹن نے بہت مایوس کیا ہے، اسرائیل اور غزہ کا معاملہ پیچیدہ ہے مگر حل ہوجائے گا۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بکنگھم شائر میں اپنی رہائش گاہ ( چیکرز ) میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کے دوران برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہاکہ ہم مل کر مشرقِ وسطی میں انسانی بحران ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ وہاں امداد پہنچائیں، یرغمالیوں کو رہا کرائیں اور بالآخر اسرائیل اور خطے کو ایک جامع منصوبے کی طرف واپس لے آئیں جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لیے امن اور سلامتی لا سکے۔

مشرقِ وسطی کا ذکر کرنے کے بعد اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ اور امریکا یوکرین میں قتل و غارت کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پیوٹن نے اپنا اصل چہرہ دکھا دیا ہے، اس نے یوکرین جنگ میں اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا، مزید خونریزی اور مزید معصوموں کا قتل کیا اور نیٹو کی فضائی حدود کی بے مثال خلاف ورزیاں کیں، یہ کسی ایسے شخص کے اقدامات نہیں ہیں جو امن چاہتا ہو۔نیوز کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نیٹو کو بہت سے ہتھیار بھیج رہا ہے، نیٹو ان ہتھیاروں کی پوری قیمت ادا کر رہا ہے، لیکن ہم انہیں بھیج رہے ہیں اور ہم انہیں وہ چیزیں مہیا کرنے کا شاندار کام کر رہے ہیں جو انہیں درکار ہیں۔

انہوں نے اتحاد ( نیٹو) کو سراہا کہ اس نے رکن ممالک کے دفاعی اخراجات کا ہدف 2 فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد کر دیا ہے۔روس کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ پیوٹن نے مجھے واقعی مایوس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے سات جنگوں کو اختتام تک پہنچایا ہے، وہ جنگیں جو ناقابلِ حل تھیں، جنہیں نہ مذاکرات سے نمٹایا جا سکتا تھا نہ ختم کیا جا سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک جنگ جو میں نے سوچا تھا سب سے آسان ہوگی روس اور یوکرین کی تھی کیونکہ روس کے صدر پیوٹن سے میرا تعلق تھا، لیکن اس نے مجھے مایوس کر دیا، واقعی مایوس کر دیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ہم اسرائیل اور غزہ پر بہت محنت کر رہے ہیں، یہ ( معاملہ ) پیچیدہ ہے ، لیکن یہ حل ہوجائے گا۔برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے سوال پر کہا کہ ہم امن اور ایک روڈ میپ کی ضرورت پر بالکل متفق ہیں کیونکہ غزہ کی صورتحال ناقابلِ برداشت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یرغمالیوں کو بہت زیادہ عرصے سے رکھا گیا ہے اور انہیں آزاد کرانا ضروری ہے۔ ہمیں غزہ میں تیزی سے امداد پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اور امن کے منصوبے کے تناظر میں تسلیم کرنے کا سوال دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ اسی مجموعی پیکیج کا حصہ ہے جو ہمیں امید ہے کہ ہمیں اس بھیانک صورتحال سے نکال کر ایک محفوظ اور پرامن اسرائیل اور ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کی طرف لے جائے گا۔تاہم ٹرمپ نے کہا کہ اس نکتے پر میرا اختلاف ہیامریکی صدر سے پوچھا گیا کہ برطانیہ درجنوں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

ابتدا میں ٹرمپ نے ایک طویل جواب دیا، جس میں غزہ سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کا سہرا اپنے سر باندھا اور اسرائیل کی جنگ جاری رکھنے کی حمایت کی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں 7 اکتوبر یاد رکھنا ہوگا، دنیا کی تاریخ کے بدترین اور سب سے پرتشدد دنوں میں سے ایک، صرف وہاں نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ میں۔ مگر انہوں نے غزہ میں فلسطینیوں کی مشکلات کا ذکر نہیں کیا۔تاہم آخرکار انہوں نے برطانیہ کے منصوبے پر جواب دیا کہ اس نکتے پر میرا وزیراعظم سے اختلاف ہے، دراصل یہ چند اختلافات میں سے ایک ہے۔

نیوز کانفرنس کے دوران امریکی صدر نے افغانستان سے بگرام ایئربیس واپس لینے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ وہ معاہدہ کیا تھا جس کے نتیجے میں امریکا افغانستان سے نکلا، یہ انخلا اگست 2021 میں بائیڈن انتظامیہ کے تحت ایک انتشار کے ساتھ مکمل ہوا۔لیکن اب ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ بگرام ایئربیس، جو ملک میں امریکی دو دہائیوں کی موجودگی کا مرکز تھا، واپس چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسے واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں ہم سے چیزیں درکار ہیں۔ اور ہم وہ بیس واپس چاہتے ہیں، اس بیس کو واپس لینے کی ایک وجہ یہ ہے کہ، یہ اس جگہ سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہے جہاں چین اپنے ایٹمی ہتھیار بناتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم شہباز شریف برطانیہ کے 4 روزہ دورے پر لندن پہنچ گئے وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ کے 4 روزہ دورے پر لندن پہنچ گئے پیپلزپارٹی کا پنجاب میں زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے اور عالمی برادری سے مدد لینے کا مطالبہ چمن میں پاک افغان بارڈر ٹیکسی اسٹینڈ پر دھماکا، 5 افراد جاں بحق پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ: کیا سعودی عرب کے بعد دیگر عرب ممالک بھی حصہ بنیں گے؟ ریکوڈک منصوبے سے طویل المدتی سماجی و اقتصادی خوشحالی آئے گی، وفاقی وزیرخزانہ پاکستان اور چین کی دوستی وقت کی آزمائش پر پوری اتری: صدر آصف علی زرداری TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اسرائیل اور غزہ بگرام ایئربیس افغانستان سے حل ہوجائے گا چاہتے ہیں

پڑھیں:

امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی مکمل عوامی ریلیز سے

پہلے وفاقی حکومت کو ان تک رسائی فراہم کریں تاکہ ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع

اس حکم نامے کے مطابق کمپنیوں کو رضاکارانہ بنیادوں پر ایک بینچ مارکنگ عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جس کے ذریعے ماڈلز کی ’اعلیٰ سائبر صلاحیتوں‘ کا جائزہ لیا جائے گا

اور یہ طے کیا جائے گا کہ آیا انہیں ’کورڈ فرنٹیئر ماڈل‘ قرار دیا جانا چاہیے یا نہیں۔

The Trump administration will ask leading AI developers to voluntarily submit their most capable models for government cybersecurity tests before releasing them to the public, according to an executive order, as security fears mount in Washington over powerful new AI systems such…

— Reuters (@Reuters) June 3, 2026

اس کے علاوہ کمپنیوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی وسیع پیمانے پر ریلیز سے 30 روز قبل حکومت کو ان تک رسائی دیں۔

حکم نامہ حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ ان ’قابلِ اعتماد شراکت داروں‘ کے انتخاب میں معاونت کرے جنہیں ابتدائی رسائی فراہم کی جائے گی۔

حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ اس شق کو اس طرح نہیں سمجھا جائے گا کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز، بشمول فرنٹیئر ماڈلز، کی تیاری، اشاعت، اجرا یا تقسیم کے لیے لازمی

لائسنسنگ، پیشگی منظوری یا اجازت نامے کا نظام نافذ کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:

صدر ٹرمپ نے یہ حکم نامہ نجی طور پر دستخط کیا، چند ہفتے قبل انہوں نے معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک دستخطی تقریب ملتوی کر دی تھی اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ

انہیں مجوزہ حکم نامے کے بعض پہلو پسند نہیں آئے تھے۔

یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں مصنوعی ذہانت کی ترقی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

پیر کے روز اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اعلان کیا کہ اس نے ابتدائی عوامی حصص فروخت کے لیے خفیہ طور پر امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں درخواست جمع کرا دی ہے۔

مزید پڑھیں:

اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی بھی رواں سال ممکنہ شیئرز کی پیشکش کی تیاری کر رہی ہے۔

دوسری جانب ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس، جو ان کی اے آئی لیبارٹری اسپیس ایکس اے آئی کی مالک بھی ہے، ممکنہ طور پر ان دونوں کمپنیوں سے پہلے اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہو

سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس کی مارکیٹ ویلیو ایک کھرب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی بدولت غیرمعمولی ترقی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی صنعت نے وائٹ ہاؤس کی اے آئی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

سرمایہ کار ڈیوڈ سیکس، جو ایلون مسک کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، رواں سال کے آغاز تک وائٹ ہاؤس کے پہلے ’کرپٹو اور اے آئی زار‘ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکس، مسک اور مارک زکربرگ نے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ کرکے ایک سابقہ اے آئی حکم نامے کی مخالفت کی تھی جس پر صدر دستخط کرنے والے

تھے۔

یہ نیا حکم نامہ اس وقت بھی سامنے آیا ہے جب اینتھروپک نے رواں سال کلاؤڈ مائتھوس پری ویو نامی ایک ایسا ماڈل متعارف کرایا جسے سافٹ ویئر میں کمزوریوں اور سیکیورٹی نقائص کی

نشاندہی میں غیرمعمولی مہارت حاصل ہے۔

کمپنی نے ابتدا میں اس ماڈل کو ’پروجیکٹ گلاس ونگ‘ نامی سائبر سیکیورٹی اقدام کے تحت محدود تعداد میں اداروں کو فراہم کیا تھا، جسے منگل کے روز مزید وسعت دی گئی۔

مائتھوس کی رونمائی کے بعد اینتھروپک کے نمائندوں کی ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، جن میں وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ شامل ہیں، سے متعدد اہم

ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

ٹرمپ کے حکم نامے میں مختلف سرکاری ہدایات اور رہنما اصول مرتب کرنے کے لیے کئی ٹائم فریمز دیے گئے ہیں۔ خصوصاً امریکی محکمہ دفاع کو اپنے معلوماتی نظاموں کے سائبر دفاع کو

ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تاہم محکمہ دفاع نے اینتھروپک کے جدید اے آئی ماڈلز سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے، مائتھوس کی ریلیز سے کچھ عرصہ قبل محکمہ نے کمپنی کو ’سپلائی چین رسک‘ قرار دیا تھا۔

اس درجہ بندی کے تحت اینتھروپک کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ تصور کیا جاتا ہے اور دفاعی ٹھیکیداروں کو محکمہ دفاع کے ساتھ اپنے کام میں کمپنی کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اوپن اے آئی ٹرمپ ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت وائٹ ہاؤس

متعلقہ مضامین

  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی