پاکستان سعودی دفاعی معاہدہ، بھارت ،اسرائیل پریشان، خطے میں نئی ہلچل
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
اپنی قومی سلامتی اور عالمی استحکام کے تناظر میں اس پیش رفت کے اثرات سے پہلے ہی آگاہ تھے اور معاہدے پر دستخط کی رپورٹس کا بغور جائزہ لے رہی ہے، بھارتی وزارت خارجہ کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان
حکومت اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گی،پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کے خطے اور عالمی استحکام پر ممکنہ اثرات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے،ترجمان رندھیر جیسوال
بھارت نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معائدے کے اثرات کا جائزہ لیں گے ۔ بھارتی وزارتِ خارجہ (MEA) کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بیان میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نئے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس کے ممکنہ اثرات کا بغور جائزہ لے گی اور قومی سلامتی کو ہر حال میں مقدم رکھے گی۔ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کی رپورٹس دیکھی ہیں۔ حکومت اس پیشرفت سے باخبر تھی جو دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے زیرِ غور تھی۔انہوں نے کہا کہ ہم اس معاہدے کے اثرات کا مطالعہ کریں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ یہ ہماری قومی سلامتی، خطے اور عالمی استحکام پر کس طرح اثرانداز ہوگا۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ حکومت قومی مفادات کے تحفظ اور ہر سطح پر جامع سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: قومی سلامتی کے درمیان اثرات کا
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔