اقوام متحدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 ستمبر2025ء) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکا کی جانب سے غزہ میں غیر مشروط جنگ بندی اور اسرائیلی پابندیاں ہٹانےکے مطالبے پر مبنی قرارداد کو ویٹو کر نے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو انتہائی تاریک لمحہ قرار دیا ہےاور کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی ہر ناکامی اس ادارے کی ساکھ کو مجروح کرتی ہے۔

امریکا نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں غیر مشروط جنگ بندی اور اسرائیلی پابندیاں ہٹانے کے مطالبے پر مبنی قرارداد کوچھٹی بار ویٹو کر دیا تھا ۔ 15 رکنی کونسل کے 10 منتخب اراکین کی طرف سے پیش کی گئی اس قرارداد کے حق میں 14 ووٹ پڑے ۔ غزہ میں تقریبا دو سال سے جاری اسرائیلی جنگ کے دوران امریکا نے سلامتی کونسل میں چھٹی مرتبہ غزہ میں جنگ بندی کے خلاف اپنا ویٹو کا حق استعمال کیا۔

(جاری ہے)

غزہ کے صحت کے حکام کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 65 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔سلامتی کونسل کے 10 غیر مستقل اراکین پاکستان، الجزائر، ڈنمارک، یونان، گیانا، پاناما، جنوبی کوریا، سیرالیون، سلووینیا اور صومالیہ نے قرارداد کا مسودہ پیش کیا جس میں تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے5مستقل ارکان چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا کو ویٹو کا حق حاصل ہے اور انہوں نے مختلف مواقع پر اس حق کا استعمال کیا ہے۔

جمعرات کے سلامتی کونسل اجلاس کی صدارت جنوبی کوریا نے کی، جو ستمبر کے لئے سلامتی کونسل کا صدر ہے۔اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے امریکا کے ویٹو پرگہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 80ویں جنرل اسمبلی اجلاس اور اعلیٰ سطحی ہفتے کے موقع پر یہ سلامتی کونسل میں ایک انتہائی تاریک لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی کارروائی کو روکنے والی اصل رکاوٹ ویٹو کا استعمال ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے اور اسی مقام پر جوابدہی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے انسانی المیے کے وقت سلامتی کونسل کو اپنا کام کرنے سے روکنا اس المیے کو جاری رکھنے کا باعث بن سکتا ہے۔ جو لوگ اس راہ کو چن رہے ہیں، انہیں اپنے موقف پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے غزہ کے لوگوں کی حالت زار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 2 لاکھ فلسطینی جو مسلسل بمباری اور محاصرے میں پھنسے ہوئے ہیں، اس ناکامی سے خطرناک پیغام جاتا ہے کہ فلسطینیوں کی زندگیاں سیاسی مفادات پر قربان کی جا سکتی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی میں رکاوٹ کا ہر لمحہ اس زخم کو مزید گہرا کرتا ہے اور غزہ کے عوام کی تکلیف میں اضافہ کرتا ہے۔ سلامتی کونسل کی ہر ناکامی اس ادارے کی ساکھ کو بھی مجروح کرتی ہے۔ سلامتی کونسل کی اکثریت نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے ، ہم نے اقوام متحدہ کے منشور کے تحت اپنا فرض ادا کیا ہے۔ یہ خامی خود سلامتی کونسل میں نہیں بلکہ ان رکاوٹوں میں سے ایک ہے جو اس پر مسلط کی گئی ہیں۔

اس حوالے سے پاکستانی مندوب نے نشاندہی کی کہ غزہ میں قحط پھیلنے کا خطرہ ہے، اسرائیلی حملوں میں روزانہ درجنوں فلسطینی شہید ہو رہے ہیں اور 10 لاکھ لوگ بے گھر ہو سکتے ہیں، مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع اسرائیلی قبضے اور اس کے اصل عزائم کو ظاہر کرتی ہے جو دو ریاستی حل کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے اور یہ 21 ویں صدی میں آباد کار استعمار کا واضح مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی حقِ خود ارادیت، وقار اور انصاف کی جدوجہد میں غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محاصرے اور قحط کا خاتمہ اور غزہ کے تمام علاقوں میں امداد کی فراہمی کے لئے تمام داخلی اور تقسیم کے راستے مکمل طور پر کھولنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطینی کے منصفانہ، پائیدار اور پرامن حل کے لئے ایک خودمختار، مربوط اور قابلِ بقا فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے جس کی سرحدیں 1967 سے پہلے کی حدود پر مشتمل ہوں اور اس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم انسانیت کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم انصاف کے ساتھ ہیں اور بین الاقوامی قانون کے ساتھ ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ غزہ کی صورتحال کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ معصوم بچوں کی چیخیں ہمارے دلوں کو چھلنی کر دینے والی ہیں اور ماؤں کا کرب ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا ہے۔ فلسطین اس سلامتی کونسل سے امید لگائے بیٹھا ہے اور ہم اُس کی طرف سے آنکھیں نہیں پھیر سکتے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سلامتی کونسل میں سلامتی کونسل کی انہوں نے کہا کہ پاکستانی مندوب اقوام متحدہ کرتا ہے کرتی ہے اور اس غزہ کے ہے اور کے لئے

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن