لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 ستمبر2025ء)سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ایک بڑی اور اہم پیش رفت ہے جس نے ملک کو علاقائی اور عالمی سطح پر اہمیت دی تاہم اس معاہدے کے ساتھ ساتھ ممکنہ خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔اس وقت مسلم دنیا کا اتحاد ضروری ہے ،پاک سعودی دفاعی معاہدہ مثبت قدم ہونے کے باوجود ملک کے خارجی خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے، دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لینا ہوگا اور قومی مفاد کو مقدم رکھ کر حکمت عملی اپنائی جانی چاہیے۔

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں وسیع جانی نقصان کیا اور اس تنازعہ کے باعث مسلم دنیا کو متحد ہونا چاہیے، تمام مسلم ممالک مل کر مسائل کے حل کی کوشش کریں،پاکستان کی عسکری قوت کودنیا تسلیم کر رہی ہے مگر ساتھ ہی اندرونی طور پر سیاسی استحکام لازمی ہے، سب سے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام لے کر آئیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت بغیر سیاسی مینڈیٹ کے بر سر اقتدار ہے اور سیاسی بحران کا حل بانی پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کے بغیر ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ سیلاب سے زرعی معیشت کو نقصان پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں کسانوں کی حالت بگڑی ہے اور سیلاب نے حالات مزید خراب کر دیئے ہیں، انہیں بروقت ریلیف اور مدد مہیا کرنا حکومت کی بڑی ذمہ داری ہے۔اسد عمر نے مزید کہا ہے کہ حالیہ بین الاقوامی جغرافیائی واقعات نے خطے کی حساسیت کو بڑھا دیا ہے لہٰذاحکمت عملی احتیاط کے ساتھ ترتیب دی جانی چاہیے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت