ٹرمپ کا صادق خان سے نفرت کا اظہار‘ بدترین میئر قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250920-01-6
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میئر لندن صادق خان کو بدترین میئر قرار دیدیا۔امریکی صدرٹرمپ نے برطانیہ سے واپسی پرائرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو میں کہاکہ میئر لندن کو میرے کہنے پرشاہی دعوت میں مدعو نہیں کیا گیا،میں صادق خان کو وہاں نہیں دیکھناچاہتاتھا،وہ دعوت میں آنا چاہتے تھے۔امریکی صدر نے کہا لندن میں جرائم کی شرح بہت زیادہ ہے،ایک عرصہ سے میئرلندن کو پسند نہیں کرتا، میئر لندن کا دنیا کے بد ترین میئرز میں شمار ہوتا ہے،امریکا میں بھی کچھ برے میئرز ہیں،شکاگو کو ناکام نہیں ہونے دیں گے۔ادھرامریکی صدر کے اپنے خلاف سخت بیان کے بعد لندن کے میئر صادق خان نے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر صادق خان نے ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس کے کیپشن میں اْنہوں نے لکھا، ’لندن میں نفرت کبھی نہیں جیتے گی۔‘اس پوسٹ میں ایک وڈیو بھی شیئر کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔