اسلام آباد میں بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑی چلانے والوں کو حوالات دکھانے کا فیصلہ کرلیا گیا جبکہ ایسے افراد کی گاڑی بھی بند ہوگی اور انہیں ضمانت بھی نہیں ملے گی۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس نے فیصلہ کیا ہے کہ یکم اکتوبر کے بعد ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے کی صورت میں مقدمات  اور گرفتاریاں ہونگی، بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑی پرائیوٹ ہو یا سرکاری بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔

اس حوالے سے آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کی جانب سے ٹریفک پولیس کو واضع احکامات جاری کردئیے گئے ہیں جب کہ اس پابندی سے پہلے سرکاری ڈرائیورز کی سہولت کیلئے انکے دفاتر میں ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

یکم اکتوبر کے بعد ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے کی صورت میں ڈرائیور اور گاڑی تھانے میں بند ہونگی، مقدمات کے اندراج کے علاوہ لائسنس کے حصول تک کریکٹر سرٹفیکیٹ بھی جاری نہیں ہوگا، گرفتار ہونے والے نجی یا سرکاری ڈرائیور کی شخصی ضمانت بھی نہیں ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈرائیونگ لائسنس اسلام آباد

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے