ڈاکٹر حمیرا طارق ودیگر کی سابق سیکرٹری خزانہ وقار مسعود کے انتقال پر تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت)حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے سابق سیکرٹری خزانہ اور معروف ماہر معیشت ڈاکٹر وقار مسعود کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک دیانت دار، باصلاحیت اور مخلص شخص تھے جنہوں نے طویل عرصہ پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی حسنات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ علاوہ ازیں ڈپٹی سیکرٹریز ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، عطیہ نثار ،ڈاکٹر زبیدہ جبیں،عفت سجاد، عائشہ سید، ڈپٹی سیکرٹری و ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید ،ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیا سیل سعدیہ حمنہ اور سیکرٹری اطلاعات فریحہ اشرف نے بھی مرحوم کی بلندی درجات کے لیے دعا کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔