کرکٹ کے دیوانوں کا انتظار ختم ہونے کو ہے، ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے کا سب سے بڑا اور سنسنی خیز میچ آج شام دبئی میں کھیلا جائے گا جہاں روایتی حریف پاکستان اور بھارت ایک بار پھر ایک دوسرے کے مقابل ہوں گے۔ یہ صرف ایک کرکٹ میچ نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ہے، فینز کے جذبات کی عکاسی ہے، اور ایشیائی کرکٹ کے وقار کا امتحان ہے۔اینڈی پائی کرافٹ اس ہائی وولٹیج مقابلے میں میچ ریفری کے فرائض انجام دیں گے۔ میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 7 بجے شروع ہوگا اور شائقین کرکٹ بے صبری سے اس ٹاکرے کے منتظر ہیں۔گزشتہ روز گرین شرٹس نے آئی سی سی کرکٹ اکیڈمی میں تین گھنٹے کی بھرپور پریکٹس سیشن کیا۔ کھلاڑیوں نے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں بھرپور تیاری کی تاکہ میدان میں کسی بھی کمزوری کا مظاہرہ نہ ہو۔ اس دوران چیئرمین پی سی بی محسن نقوی بھی کھلاڑیوں سے ملے اور ٹیم کا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قومی ٹیم اس بار اپنی بہترین کارکردگی دکھا کر قوم کو خوش خبری سنائے گی۔یاد رہے کہ گروپ مرحلے میں بھارت نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ اس شکست کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے، لیکن کپتان اور ٹیم مینجمنٹ پر اعتماد ہیں کہ اس بار کہانی مختلف ہوگی۔میچ سے قبل فضا اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو کا چیئرمین اے سی سی محسن نقوی کے ساتھ ہینڈ شیک تنازع سامنے آیا۔ اس کے بعد یادیو کے سیاسی بیان نے ماحول کو مزید گرما دیا، اور شائقین میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ اس کشیدہ پس منظر نے آج کے میچ کو صرف کرکٹ تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک جذباتی اور سیاسی رنگ بھی دے دیا ہے۔دونوں طرف کے کھلاڑیوں پر دباؤ اپنی جگہ لیکن فینز کی نظریں صرف ایک چیز پر جمی ہیں: فتح۔ گرین شرٹس بدلے کے جذبے کے ساتھ میدان میں اتریں گے جبکہ بھارتی ٹیم اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ میچ فیصلہ کرے گا کہ ایشیا کپ کے فائنل میں جانے کے امکانات کس ٹیم کے زیادہ روشن ہوں گے۔ دبئی کا اسٹیڈیم ہاؤس فل ہے، ٹکٹیں کئی دن پہلے ہی فروخت ہوچکی ہیں، اور لاکھوں لوگ ٹی وی اسکرینز پر یہ تاریخی مقابلہ دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان