ایشیا کپ کا بڑا معرکہ: پاکستان اور بھارت آج دبئی میں آمنے سامنے
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
کرکٹ کے دیوانوں کا انتظار ختم ہونے کو ہے، ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے کا سب سے بڑا اور سنسنی خیز میچ آج شام دبئی میں کھیلا جائے گا جہاں روایتی حریف پاکستان اور بھارت ایک بار پھر ایک دوسرے کے مقابل ہوں گے۔ یہ صرف ایک کرکٹ میچ نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ہے، فینز کے جذبات کی عکاسی ہے، اور ایشیائی کرکٹ کے وقار کا امتحان ہے۔اینڈی پائی کرافٹ اس ہائی وولٹیج مقابلے میں میچ ریفری کے فرائض انجام دیں گے۔ میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 7 بجے شروع ہوگا اور شائقین کرکٹ بے صبری سے اس ٹاکرے کے منتظر ہیں۔گزشتہ روز گرین شرٹس نے آئی سی سی کرکٹ اکیڈمی میں تین گھنٹے کی بھرپور پریکٹس سیشن کیا۔ کھلاڑیوں نے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں بھرپور تیاری کی تاکہ میدان میں کسی بھی کمزوری کا مظاہرہ نہ ہو۔ اس دوران چیئرمین پی سی بی محسن نقوی بھی کھلاڑیوں سے ملے اور ٹیم کا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قومی ٹیم اس بار اپنی بہترین کارکردگی دکھا کر قوم کو خوش خبری سنائے گی۔یاد رہے کہ گروپ مرحلے میں بھارت نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ اس شکست کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے، لیکن کپتان اور ٹیم مینجمنٹ پر اعتماد ہیں کہ اس بار کہانی مختلف ہوگی۔میچ سے قبل فضا اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو کا چیئرمین اے سی سی محسن نقوی کے ساتھ ہینڈ شیک تنازع سامنے آیا۔ اس کے بعد یادیو کے سیاسی بیان نے ماحول کو مزید گرما دیا، اور شائقین میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ اس کشیدہ پس منظر نے آج کے میچ کو صرف کرکٹ تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک جذباتی اور سیاسی رنگ بھی دے دیا ہے۔دونوں طرف کے کھلاڑیوں پر دباؤ اپنی جگہ لیکن فینز کی نظریں صرف ایک چیز پر جمی ہیں: فتح۔ گرین شرٹس بدلے کے جذبے کے ساتھ میدان میں اتریں گے جبکہ بھارتی ٹیم اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ میچ فیصلہ کرے گا کہ ایشیا کپ کے فائنل میں جانے کے امکانات کس ٹیم کے زیادہ روشن ہوں گے۔ دبئی کا اسٹیڈیم ہاؤس فل ہے، ٹکٹیں کئی دن پہلے ہی فروخت ہوچکی ہیں، اور لاکھوں لوگ ٹی وی اسکرینز پر یہ تاریخی مقابلہ دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔