بھارتی اینکر پرسن کا بڑا اعتراف: پاکستان سے جنگ کے بعد بھارت بیانیے کی جنگ بھی ہار گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
نئی دہلی: بھارتی میڈیا کی معروف اینکر پرسن پالکی شرما نے تسلیم کیا ہے کہ بھارت مئی کی جنگ کے بعد بیانیے کی جنگ بھی بری طرح ہار گیا تھا۔
ایک تقریب میں انٹرویو دیتے ہوئے پالکی شرما نے کہا کہ بھارت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے پاس ٹیلنٹ بھی موجود ہے اور پیسہ بھی، لیکن وژن کی شدید کمی ہمیں پیچھے دھکیل دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں جب بھی حکمتِ عملی پر بات کی جاتی ہے تو سوچ صرف بارڈرز اور ڈپلومیسی تک محدود رہتی ہے، لیکن میڈیا کو کبھی بطور "اسٹریٹجک ریسورس" استعمال نہیں کیا جاتا۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں میڈیا کو طاقت اور اثر و رسوخ کے ایک بڑے ہتھیار کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن بھارت ابھی تک اس حقیقت کو نظرانداز کرتا رہا ہے۔
پالکی شرما نے اعتراف کیا کہ جنگ کے بعد صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ میں بھی بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور یہ ایک بڑی ناکامی ہے جس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی جنگ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔