فرانسیسی صدر اپنی اہلیہ کو خاتون ثابت کرنے کے شواہد عدالت میں پیش کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اپنی اہلیہ بریجیت میکرون کے حوالے سے پھیلائی جانے والی متنازع اور شرمناک افواہوں پر قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر امریکی عدالت میں یہ ثابت کرنے کے لیے شواہد پیش کریں گے کہ ان کی اہلیہ خاتون ہیں، نہ کہ مرد، جیسا کہ بعض حلقوں کی جانب سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
میکرون فیملی کے وکیل نے بتایا ہے کہ عدالت میں تصویری شواہد، سائنسی رپورٹس اور ماہرین کی گواہیاں جمع کرائی جائیں گی تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔
دوسری جانب امریکی تجزیہ کار کینڈیس اوونز، جنہوں نے فرانسیسی خاتون اول کو مرد قرار دیا تھا، اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ اوونز کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اس دعوے پر پورے کیریئر کی ساکھ بھی داؤ پر لگانے کو تیار ہیں۔ ان کے وکلا نے عدالت سے میکرون فیملی کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست بھی دائر کر دی ہے۔
یہ مقدمہ بین الاقوامی میڈیا میں غیرمعمولی توجہ حاصل کر رہا ہے اور سیاسی و سماجی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ آیا عدالت اس معاملے کو کس طرح نمٹاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔