احسن اقبال کر سکتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
ڈاکٹر آصف علی کا تعلق چکوال سے تھا‘ انھوں نے 1990میں قائداعظم یونیورسٹی سے میتھ میٹکس میں ایم ایس سی کیا اور گولڈ میڈل کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی‘ 1992میں انھوں نے ایم فل کر لیا‘ یہ ٹاپر تھے لہٰذا حکومت نے انھیں اسکالر شپ پر پی ایچ ڈی کے لیے آسٹریلیا بھیج دیا‘ یہ کینبرا میں نیشنل یونیورسٹی میں پڑھاتے بھی تھے اور پی ایچ ڈی بھی کر رہے تھے‘ 1998میں پی ایچ ڈی ہو گئی جس کے بعد ان کے پاس دو آپشن تھے‘ یہ آسٹریلیا میں سیٹل ہو جاتے‘ ڈالرز کماتے اور بچے آسٹریلین نیشنل ہو کر فائیو اسٹار زندگی گزارتے یا پھر یہ پاکستان واپس آکر نوجوانوں میں اعلیٰ تعلیم بانٹتے‘ ڈاکٹر صاحب نے دوسرا راستہ منتخب کیا‘ اب سوال یہ ہے ڈاکٹر صاحب نے یہ راستہ کیوں چنا؟ اس کی وجہ بہت دل چسپ ہے۔
جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں شوکت عزیز نے انھیں سنگا پور کی ترقی کی وجہ بتائی تھی‘ شوکت عزیز سنگاپور میں سٹی بینک کے کنٹری ہیڈ رہے تھے‘ یہ سنگا پور کو اچھی طرح سمجھتے تھے‘ انھوں نے جنرل مشرف کو بتایا لی کو آن یو نے وزیراعظم بننے کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں میں کام کرنے والے سنگاپورین سی ای اوز اور پروفیسرز کو وہ تنخواہیں اور مراعات آفر کر دیں جو یہ دوسرے ملکوں سے لے رہے تھے‘ مثلاًفرض کریں ایک سنگا پورین پروفیسر یا پرائیویٹ کمپنی کا ملازم امریکا میں ماہانہ دس ہزار ڈالر لے رہا ہے‘ وزیراعظم نے اسے پیش کش کر دی تم سنگاپور واپس آؤ اور یہ تنخواہ ہم سے لے لو‘ یہ بڑی زبردست آفر تھی کیوں کہ اوورسیز سنگاپورینز کی آدھی تنخواہیں ٹیکسوں اور مہنگی رہائش گاہوں میں ضایع ہو جاتی تھیں اور وہ بمشکل دس فیصد رقم بچا پاتے تھے‘ سنگاپور میں ان کے اپنے مکان تھے اور ٹیکس بھی امریکا کے مقابلے میں کم تھے لہٰذا یہ بڑی آسانی سے تنخواہ کا ساٹھ فیصد بچا سکتے تھے چناں چہ اس آفر کے بعد 80 فیصد پڑھے لکھے سنگاپورین واپس آ گئے۔
حکومت نے سی ای اوز کو بڑی تنخواہیں دے کر بیوروکریسی میں شامل کر لیا جب کہ پروفیسرز کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھانے کی ذمے داری دے دی اور ان لوگوں نے دس سال میں سنگاپور کو اکنامک پاور بنا دیا‘ شوکت عزیز نے جنرل مشرف کو بتایا سنگاپور کے بعد ملائیشیا اور چین نے بھی اسی فارمولے کے تحت ترقی کی لہٰذا ہم اگر ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں بھی یہ کرنا ہو گا‘ ہم اگر دنیا بھر سے اپنے ٹیلنٹڈ پاکستانی واپس لے آتے ہیں تو ہم ترقی کی سڑک پر آجائیں گے لیکن اس کے لیے ہمیں انھیں اسپیشل پے اسکیل دینا ہوں گے‘ جنرل پرویز مشرف راضی ہو گئے اور انھوں نے 15 مارچ 2002کو دنیا بھر میں موجود پاکستانی پروفیسرز کو واپس لانے کے لیے ٹاسک فورس بنا دی‘ پاکستان کے مشہور بزنس مین اور لمز یونیورسٹی کے بانی سید بابرعلی اس ٹاسک فورس کے چیئرمین اور آغا خان یونیورسٹی کے صدر شمس قاسم لاکھا کوچیئرمین تھے جب کہ ممبرز میں اس وقت کے اعلیٰ پروفیسرز اور وائس چانسلرز تھے۔
ٹاسک فورس نے طویل غور وخوض کے بعد فیصلہ کیا یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو ہائیرایجوکیشن کمیشن میں تبدیل کر دیا جائے اور یونیورسٹیوں میں بیسک پے اسکیل (بی پی ایس) کے ساتھ ساتھ ٹینور ٹریک سسٹم (ٹی ٹی ایس) متعارف کرا دیا جائے‘ ٹی ٹی ایس عام روایتی سسٹم سے بالکل مختلف ہو‘ یہ صرف بیرون ملک سے پی ایچ ڈی کرنے والے پروفیسروں اور دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں کام کرنے والے پاکستانیوں کو آفر کیا جائے‘ انھیں ڈالرز میں تنخواہ دی جائے اور ہر سال پرائیویٹ کمپنیوں کی طرح ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔
فیصلہ ہوا بیرون ملک کام کرنے والے پروفیسرز کو ماہانہ تین ہزار ڈالرز‘ ایسوسی ایٹ پروفیسرز کو دو ہزار ڈالرز اور اسسٹنٹ پروفیسر کو 13 سو33 ڈالرز کے برابر تنخواہیں دے دی جائیں تاکہ یہ یورپی ملکوں کے برابر تنخواہ پاکستان میں لے سکیں‘ ٹاسک فورس کی سفارشات پر عملدرآمد شروع ہو گیااور2007 تک چار ہزار پروفیسرز پاکستان واپس آگئے اور انھوں نے پاکستانی یونیورسٹیوں میں پڑھانا شروع کر دیا‘ ان میں سے آدھے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اسکالر شپس پر باہر پڑھنے گئے تھے اور یہ اس آفر کے بعد انٹرنیشنل یونیورسٹیوں کو لات مار کر واپس آ گئے‘ پروفیسر آصف علی بھی ان میں شامل تھے‘ یہ بھی واپس آکر قائداعظم یونیورسٹی میں پڑھانے لگے۔
پاکستان کے ان چار ہزار پروفیسرز نے10 ہزار اسٹوڈنٹس کو پی ایچ ڈی کرائی‘ اس وقت بھی 15 ہزار طالب علم پی ایچ ڈی کے لیے ان کے ساتھ وابستہ ہیں جب کہ ان کے 8 ہزارا سٹوڈنٹس ان کی سفارش پر دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں‘ یہ پروجیکٹ جب شروع ہوا تو اس وقت قائداعظم یونیورسٹی کے نارمل اسسٹنٹ پروفیسر (بی پی ایس) کی تنخواہ 43105 روپے سے شروع ہوتی تھی جب کہ اس کے مقابلے میں ٹی ٹی ایس اسسٹنٹ پروفیسر اس سے 86فیصد زیادہ یعنی 80 ہزار روپے تنخواہ پر اپنا کیریئر شروع کرتا تھا‘ حکومت پچھلے سترہ برسوں میں بی پی ایس کی تنخواہوں میں سالانہ 11فیصد اضافہ کرتی رہی جب کہ ٹی ٹی ایس کی تنخواہ میں اضافہ نہیں ہوا چناں چہ آج اگر کوئی اسسٹنٹ پروفیسر امریکا‘ برطانیہ یا آسٹریلیا چھوڑ کر پاکستان آئے گا تو اسے ایک لاکھ 75ہزار روپے تنخواہ ملے گی جب کہ بی پی ایس دو لاکھ 52ہزار سات سو 31 روپے حاصل کرے گا‘ اسی طرح 2007 میں لوکل ایسوسی ایٹ پروفیسر کی پہلی تنخواہ 54ہزار33 روپے جب کہ بیرون ملک سے آنے والے ایسوسی ایٹ پروفیسر کو ایک لاکھ 20 ہزار تنخواہ دی جاتی تھی۔
یہ نارمل سے ایک سو 22فیصد زیادہ تھی لیکن آج 17 سال بعد نارمل ایسوسی ایٹ پروفیسر کی ابتدائی تنخواہ تین لاکھ 21 ہزار چار سو 55 روپے اور ٹی ٹی ایس کی دو لاکھ 63ہزار 250 روپے ہے گویا 122فیصد اضافی تنخواہ 17 برسوں میں کم ہو کر 18فیصد منفی ہو چکی ہے‘اسی طرح 2007میں قائداعظم یونیورسٹی کے نارمل پروفیسروں کی ابتدائی تنخواہ72 ہزار ایک سو 27 روپے اور ٹی ٹی ایس پروفیسر کی تنخواہیں اس سے 150فیصد زیادہ یعنی ایک لاکھ 80 ہزار روپے تھی‘ آج 17برس بعد لوکل پروفیسر کی ابتدائی تنخواہ چار لاکھ پانچ ہزار دو سو بانوے روپے جب کہ ٹی ٹی ایس پروفیسر کی تین لاکھ 94 ہزار875 روپے ہے گویا 150فیصد زیادہ تنخواہ کا پروفیسر اب منفی تین فیصد تنخواہ لے رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے یہ فرق کیوں اور کیسے آ گیا؟ سیدھی بات ہے بی پی ایس کی تنخواہوں میں ہر سال گیارہ فیصد اضافہ ہوتا رہا اور ان کی تنخواہیں بڑھتی رہیں جب کہ بیرونی یونیورسٹیاں اور فائیو اسٹار شہریت چھوڑ کر آنے والے پروفیسرز کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا اور یوں یہ روز بروز نیچے سے نیچے کھسکتے چلے گئے‘ حکومت آج بھی اربوں روپے اسکالرشپس دے کر طالب علموں کو بیرونی یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی کرا رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کیا یہ امریکا‘ یورپ اور آسٹریلیا سے تین سے پانچ ہزار ڈالر کی نوکری چھوڑ کر اب پاکستان میں چھ سو ڈالر کی نوکری شروع کریں گے اور وہ بھی اس عالم میں کہ لوکل اسسٹنٹ پروفیسر ان سے اٹھارہ فیصد زیادہ تنخواہ لے رہے ہوں؟ ٹی ٹی ایس پروفیسرز نے جون 2024میں اس ظلم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی اور 12 ستمبر 2025کو عدالت نے حکم دیا یہ معاملہ وفاقی کابینہ میں پیش کیاجائے اور فوری طور پر ٹی ٹی ایس کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافہ کیا جائے۔
حکومت اب اگر اس فیصلے پر عمل کرتی ہے تو اسے بھاری رقم دینا پڑے گی لہٰذا میری اطلاع کے مطابق یہ اب سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی اور یہ معاملہ وہاں جا کر لٹک جائے گا اور اس کا سیدھا سادا ملک کو نقصان ہو گا‘ میرا مشورہ ہے احسن اقبال منصوبہ بندی کے وزیر ہیں‘ یہ خود بھی فارن کوالی فائیڈ پروفیسر ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں مینجمنٹ کی بے تحاشا صلاحیت دے رکھی ہے‘ وزیراعظم اگر انھیں اجازت دیں تو یہ دس منٹ میں یہ معاملہ نبٹا سکتے ہیں‘ یہ فوری طور پر ٹی ٹی ایس سے رابطہ کر کے ان سے ماضی کے انکریمنٹس معاف کرا سکتے ہیں یا یہ انھیں پلاٹس یا دیگر مراعات میں ایڈجسٹ کر سکتے ہیں‘ یہ ان کی تنخواہیں نارمل ٹاسک فورس کی تجاویز کے مطابق کر سکتے ہیں یوں اسسٹنٹ پروفیسر کی تنخواہ چار لاکھ 71 ہزار‘ ایسوسی ایٹ پروفیسر کی تنخواہ سات لاکھ سات ہزار چار سو 11روپے اور فل پروفیسر کی 10 لاکھ 61 ہزار ایک سو 17 روپے ہو جائے گی۔
اس کے دو فائدے ہوں گے‘ دنیا بھر میں موجود نیا پاکستانی ٹیلنٹ دوبارہ پاکستان آنے لگے گا اور وہ پروفیسر جنھوں نے ماضی میں حکومت پر اعتماد کر کے غلطی کی تھی وہ بھی مطمئن ہو جائیں گے‘یہ فارمولہ اگر سنگاپور‘ ملائیشیا اور چین میں کام یاب ہو سکتا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں؟ اور آخری بات سابق حکومتوں کے سارے پروجیکٹس غلط نہیں ہوتے اگر میاں نواز شریف نے پیپلزپارٹی کے آئی پی پیز اور بے نظیر انکم سپورٹ قبول کرلیا تھا اور جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کی موٹروے کو تسلیم کر لیا تھا تو آپ بھی جنرل مشرف کے اس نوعیت کے اچھے اقدامات کو مان لیں‘اس سے ہمارا دائروں کا سفر کم ہو جائے گا ورنہ ہم اسی طرح پیچھے دوڑتے چلے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قائداعظم یونیورسٹی یونیورسٹیوں میں کی تنخواہوں میں اسسٹنٹ پروفیسر ایس کی تنخواہ یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی کر پروفیسرز کو فیصد زیادہ پروفیسر کی کرنے والے ٹاسک فورس بی پی ایس ٹی ٹی ایس سکتے ہیں انھوں نے کے لیے اور ان کے بعد
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے