جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل کا انڈونیشیا میں اسٹریٹیجک توسیع کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل کا انڈونیشیا میں اسٹریٹیجک توسیع کا آغاز WhatsAppFacebookTwitter 0 23 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل نے انڈونیشیا میں اسٹریٹیجک توسیع کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کو پاکستانی اداروں کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی موجودگی اور مثر شراکت داریوں کی ایک نمایاں مثال قرار دیا جا رہا ہے، جو ملکی اور غیر ملکی معیشت کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرے گا۔
گروپ سی ای او یاسر خان نیازی کی قیادت میں جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل کے اعلی سطحی وفد نے، جس میں اسلام آباد میں انڈونیشیائی سفارتخانے کے نمائندے اور آر ایس ایم پاکستان و آر ایس ایم انڈونیشیا کے کنسلٹنٹ پارٹنرز شامل تھے، وزارتِ خارجہ انڈونیشیا کی معاونت سے مشرقی نوسا تنگارا (NTT) صوبے کے اہم اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کیں۔ این ٹی ٹی کے گورنر ہز ایکسیلینسی ایمانوئل میلکیڈیز لاکا لینا سے گفتگو میں ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی، جی اے کے کے معروف اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے طرز پر میڈیکل کالج کے قیام، اور ریسرچ و ٹریننگ حب کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جی اے کے ہیلتھ کیئر کے گروپ سی ای او نے ہز ایکسیلینسی ریاتنو، وائس منسٹر آف انویسٹمنٹ اینڈ ڈان اسٹریم انڈسٹری/ڈپٹی بی کے پی ایم انڈونیشیا سے بھی ملاقات کی، جس میں انڈونیشیا میں ٹیکنالوجی پر مبنی طبی خدمات کو فروغ دینے کے لیے تعاون کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔ یہ ممکنہ سرمایہ کاری نہ صرف انڈونیشیا کے ہیلتھ کیئر نظام کو مزید مضبوط بنائے گی بلکہ پاکستان کے نجی شعبے کو ایک معتبر بین الاقوامی شراکت دار کے طور پر بھی اجاگر کرے گی، جس کے ذریعے میڈیکل ٹیکنالوجی کے تبادلے، عالمی سطح پر پذیرائی اور پاکستانی ماہرین کے لیے نئے مواقع کے دروازے کھلیں گے۔یاسر خان نیازی نے کہا کہ “ہمارا یہ توسیعی منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے
ایشیا پیسیفک ہیلتھ کیئر سیکٹر 2030 تک 5 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو دنیا کی مجموعی ہیلتھ کیئر ترقی کا تقریبا 40 فیصد ہوگا۔ جنوب مشرقی ایشیا کی ایجوکیشن ٹیکنالوجی مارکیٹ، جس کی مالیت 2024 میں 10.
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغیر متنازعہ فیصلوں کیلئے مشہور دنیائے کرکٹ کے لیجنڈری امپائر ڈکی برڈ انتقال کر گئے غیر متنازعہ فیصلوں کیلئے مشہور دنیائے کرکٹ کے لیجنڈری امپائر ڈکی برڈ انتقال کر گئے بی آئی ایس پی کو فراڈ کہنے والوں کو معافی مانگنی چاییے، نام کسی صورت تبدیل نہیں ہوگا:سینیٹر روبینہ خالد چین نے اے آئی کی مدد سے دنیا کا بلند ترین ڈیم بنا لیا، پانی ذخیرہ کرنے کا آغاز تکنیکی غلطی یا کچھ اور؟ فلسطین کانفرنس کے دوران عالمی رہنما ئوں کا مائیک بند بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مسترد،سیلاب زدگان کی مدد وزیراعلی ریلیف کارڈ سے ہوگی ،عظمی بخاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: انڈونیشیا میں
پڑھیں:
خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔