data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ کی جانب امدادی سامان اور انسانی ہمدردی کا پیغام لے جانے والے “گلوبل صمود فلوٹیلا” پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق  سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہےکہ صمود فلوٹیلا پر فوری بین الاقوامی توجہ اور تحفظ کی ضرورت ہے، مختصر وقت میں کم از کم 7 حملے کیے گئے، جن میں ساؤنڈ بم، دھماکہ خیز فلیئرز، مشتبہ کیمیکل اسپرے، اور ریڈیو سسٹمز کی جامنگ شامل ہے۔ حتیٰ کہ کشتیوں سے باہر کی دنیا سے مدد کی کالز بھی بلاک کر دی گئیں۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق ایک کشتی  کے قریب دس دھماکے ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیلی ڈرونز مسلسل فضا میں منڈلا رہے ہیں اور کمیونیکیشن سسٹمز کو جام کیا جا رہا ہے۔

صمود فلوٹیلا کی رکن تھییاگو  ایویلا نے ایک ویڈیو پیغام میں انکشاف کیا کہ ہم نے ابھی ابھی دسویں دھماکے کی آواز سنی ہے، وہ اب بھی ہمارے امن مشن پر حملے کر رہے ہیں۔ وہ چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ان کی سیلز تباہ کی جا رہی ہیں،  وہ ایسے آلات استعمال کر رہے ہیں جو نہ صرف انسانوں کو زخمی کر سکتے ہیں بلکہ کشتیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

تھییاگو ایویلا نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “یہ بہت ضروری ہے کہ دنیا اس حملے کو دیکھے۔ ہمارا انسانی مشن، جو بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل طور پر محفوظ ہے، اس پر کھلم کھلا حملہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب، اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطینی علاقے، فرانچسکا البانیزے نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار  کرتے ہوئے کہا ہےکہ یہ تمام حملے ایک ایسے مشن پر ہو رہے ہیں جو صرف غزہ کے مظلوم عوام تک خوراک، ادویات، اور بنیادی ضروریات کی رسائی کو ممکن بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔

خیال رہےکہ  غزہ میں امداد کے نام پر امریکا اور اسرائیل کھلی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہے ہیں جب کہ عالمی ادارے محض خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ مسلم حکمران بھی بے حسی اور مصلحت کا لبادہ اوڑھے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، جو امت مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: صمود فلوٹیلا رہے ہیں

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید