شہید حسن نصراللہ کی پہلی برسی، 27 ستمبر کو یوم شہدائے القدس منایا جائے گا، علامہ باقر زیدی
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اجلاس سے خطاب میں رہنما ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ سید حسن نصراللہ، اسماعیل ہنیہ، سید ہاشم صفی الدین، یحیٰ سنوار کی شہادت کے بعد مقاومت کمزور نہیں ہوئی، غزہ کی جنگ عالم اسلام کی جنگ ہے، حزب اللہ و حماس کے عظیم شہداء نے اسرائیل کی طاقت کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عالم اسلام کے لیڈر شہید سید حسن نصراللہ لطیف شخصیت کے مالک عظیم انسان تھے، آپ کسی پر ظلم برداشت نہیں کرتے تھے، اگر کسی نے عزت سے جینا اور مرنا ہے تو شہدائے قدس کے نقش قدم پر چلے، مظلومین فلسطین و لبنان کی استقامت نے عالم اسلام میں بیداری کی نئی لہر پھونک دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی صدر علامہ سید باقر عباس زیدی نے وحدت ہاؤس کراچی میں منعقدہ ایم ڈبلیو ایم سندھ کابینہ کے اہم اجلاس سے خطاب میں کیا۔ اجلاس میں سندھ و کراچی کے رہنماؤں بشمول کراچی ڈویژن کے صدر علامہ صادق جعفری، علامہ مختار امامی، علامہ حیات عباس، علامہ ملک عباس، علامہ مبشر حسن، ناصر الحسینی سمیت دیگر رہنما موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ و حماس کے عظیم شہداء نے اسرائیل کی طاقت کا غرور خاک میں ملا دیا ہے، شہداء تحریک مقاومت کے سر کا تاج ہیں، شہداء نے تحریک آزادی قدس کو نئی زندگی دے دی ہے۔
علامہ باقر زیدی نے مزید کہا کہ سید حسن نصراللہ، اسماعیل ہنیہ، سید ہاشم صفی الدین، یحیٰ سنوار کی شہادت کے بعد مقاومت کمزور نہیں ہوئی، غزہ کی جنگ عالم اسلام کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل گزشتہ کئی سالوں سے فلسطینی عوام کی نسل کشی کر رہا ہے، پورا خطہ سامراجیت کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، شہداء کی قربانیوں کی کا ہی نتیجہ ہے کہ آج تک پورے مشرق وسطیٰ میں امریکہ و اسرائیل سمیت سامراجی طاقتوں کے عزائم خاک میں مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی رجیم کے خلاف تمام مسلمان متحد ہو چکے ہیں، ہم اس وحدت کو ٹوٹنے نہیں دیں گے، ملکی عوام پاکستان میں بیرونی مداخلت بلکل برداشت نہیں کریں گے، 27 ستمبر ملک بھر میں یوم شہدائے القدس منایا جائے گا، شہید حسن نصر اللہ کی پہلے برسی کی مناسبت سے سندھ کے تمام اضلاع میں شایان شان انداز میں مختلف مجالس عزاء، سیمینارز، کانفرنس، تعزیتی پروگرامات منعقد کئے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حسن نصراللہ عالم اسلام نے کہا کہ کی جنگ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔