بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر گرفتاری کیساتھ گاڑی بھی بند ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اسلام آباد میں اب بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنے پر ناصرف گرفتاری ہو گی بلکہ گاڑی بھی ضبط ہوگی۔ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ آئی جی اسلام آباد کی زیر صدارت پبلک سروس ڈلیوری سے متعلق اجلاس ہوا جس میں یکم اکتوبر سے بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اسلام آباد پولیس ترجمان کے مطابق یکم اکتوبر سے بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا اور گاڑی بھی بند ہو گی۔
وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے اپیل کی ہے کہ شہری یکم اکتوبر سے پہلے اپنا ڈرائیونگ لائسنس حاصل کر لیں جبکہ اس حوالے سے آئی جی اسلام آباد نے ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کا عمل تیز کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس دفتر فیض آباد عوام کی سہولت کے لیے 24 گھنٹے کھلا رہے گا، ڈرائیونگ لائسنس کی سہولت 11 خدمت مراکز پر بھی دی گئی ہے، خدمت مراکز کے اوقات کار شام 6 سے بڑھا کر 9 بجے تک کر دیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بغیر لائسنس ڈرائیونگ اسلام آباد
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔