بھارت: جھارکھنڈ یورینیم ذخائر جنگی جنون کی نذر، عوام تابکار خطرات سے دوچار
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کے یورینیم ذخائر مودی حکومت کے جنگی جنون کی نذر ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں عوام کی زندگیاں تابکاری خطرات سے دوچار ہیں۔
عالمی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے بتایا کہ بھارت جوہری امور میں بدترین لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور مودی حکومت یورینیم اور دیگر جوہری مواد کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
اسی طرح یورینیم کی چوری، اسمگلنگ اور ایٹمی مواد کی بدانتظامی بھارت کی تاریخ کی سنگین مثال بن چکی ہے جو بھارتی سیکیورٹی کے ناکام نظام اور مودی حکومت کی نااہلی کو بے نقاب کرتی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا نے بھی مشرقی جھارکھنڈ میں تین سرکاری کانوں سے نکلنے والے تابکاری فضلے کو انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کا انتہاپسندانہ جوہری ایجنڈا عوام کو تابکاری اثرات کے باعث خطرناک بیماریوں میں مبتلا کر رہا ہے اور جھارکھنڈ کے یورینیم ذخائر کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے جوڑنا مودی سرکار کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں اور سیاسی ہتھکنڈوں کا واضح ثبوت ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کا یہ جوہری جنون نہ صرف خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: مودی حکومت
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :