Daily Sub News:
2026-06-02@22:55:47 GMT

قائداعظم کے نواسے اور اہلِ خانہ پر جعلسازی کا مقدمہ درج

اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT

قائداعظم کے نواسے اور اہلِ خانہ پر جعلسازی کا مقدمہ درج

قائداعظم کے نواسے اور اہلِ خانہ پر جعلسازی کا مقدمہ درج WhatsAppFacebookTwitter 0 25 September, 2025 سب نیوز

ممبئی پولیس نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے نواسے اور معروف بزنس ٹائیکون نوسلی نیول واڈیا سمیت ان کے اہلِ خانہ اور چند دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

نوسلی پر الزام ہے کہ انہوں نے جعلی دستاویزات تیار کرکے عدالت میں استعمال کیے۔ نوسلی واڈیا کی عمر 81 برس ہے، اور وہ بھارت کے نمایاں بزنس خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق یہ مقدمہ میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کورٹ بوریولی کے حکم پر درج کیا گیا۔ عدالت نے بانگور نگر پولیس کو ہدایت دی کہ نوسلی واڈیا، ان کی اہلیہ مورین واڈیا، بیٹے نیس واڈیا اور جہانگیر واڈیا سمیت دیگر ساتھیوں کے خلاف دھوکا دہی اور جعلسازی کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے۔

یہ کیس دراصل ایک 30 سال پرانے ڈیولپمنٹ ایگریمنٹ سے جڑا ہوا ہے جو واڈیا اور فیرانی ہوٹلز کے درمیان ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت مالاد کی زمین کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور واڈیا کو کل آمدنی کا 12 فیصد ملنا تھا۔ تاہم 2008 میں تنازعات کھڑے ہوگئے جس کے بعد معاملہ قانونی جنگ میں بدل گیا اور بمبئی ہائی کورٹ سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ تک جا پہنچا۔

پیر کو درج ہونے والی نئی ایف آئی آر میں بھارتیہ نیا یا سنہیتا کی کئی دفعات شامل کی گئی ہیں، جن میں دھوکا دہی، جعلسازی، مجرمانہ سازش اور جعلی دستاویزات عدالت میں پیش کرنے جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ فیرانی ہوٹلز کے سی ای او مہندرا چاندے نے پولیس کو شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا کہ ملزمان نے 2010 میں بمبئی ہائی کورٹ کے ایک کمرشل مقدمے میں جعلی کاغذات استعمال کیے۔

شکایت کنندہ کے مطابق انہوں نے پہلے بانگور نگر پولیس اسٹیشن اور پھر ممبئی پولیس کمشنر کو بھی آگاہ کیا، لیکن ایف آئی آر درج نہ ہونے پر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت کے حکم پر آخرکار پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔

بانگور نگر پولیس کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ معاملہ ابھی تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں ہے اور چونکہ اس میں بڑی تعداد میں کاغذات شامل ہیں، اس لیے جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد ہی کوئی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔

اخباری رپورٹ کے مطابق نوسلی واڈیا کے بیٹے نیس واڈیا سے اس معاملے پر رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ تبصرے کے لیے دستیاب نہ ہوسکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگردشی قرضہ تمام وسائل نگل رہا تھا، اس مسئلے سے نمٹنا بہت بڑی کامیابی ہے: وزیراعظم معرکہ حق پاکستان کی عظیم فتح، فیلڈ مارشل نے دکھایا جنگیں کیسے لڑی جاتی ہیں،وزیراعظم امریکی ’ایچ ون بی‘ کی جگہ چین کا لانچ کردہ ’کے ویزا‘ کیا ہے؟ وزیراعظم شہباز شریف کی آج وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات متوقع ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں برقی سیڑھی کی خرابی ’سازش‘ قرار دے دی ایک سال سے کہانیاں سنائی جارہی ہیں، سات دن میں خالی آسامیاں پُر کریں، جسٹس محسن اختر کیانی ڈپٹی کمشنر پر برہم سیلاب کی تباہ کاریاں، راستے بحال نہ ہونے سے متاثرین کو گھر واپسی میں مشکلات TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ