بگرام ائر بیس دو۔ ٹرمپ، ایبسلوٹلی ناٹ۔ طالبان
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر کچھ عرصے کے بعد ایسے متنازع بیان دے دیتے ہیں یا اپنا ایسا منصوبہ ظاہر کرتے ہیں جس کے پورا ہونے کا ایک فی صد بھی امکان نہیں ہوتا پھر جب ان کی کہی ہوئی بات ناکام ہوجاتی ہے اور ان کا منصوبہ ادھورا رہ جاتا ہے تو وہ پھر کسی کا غصہ کسی پر اتارتے ہیں۔ مثلاً انہوں نے بڑا سینہ پھلا کر کہا تھا کہ وہ روس اور یوکرین کی جنگ بند کرادیں گے اور اس کے لیے الاسکا میں روسی صدر کا عظیم الشان استقبال بھی کیا تھا لیکن بات نہ بن سکی حالانکہ یو کرین کے کچھ علاقے جن پر روس کا دعویٰ تھا اس کو واپس دینے پر آمادگی ظاہر ہوگئی تھی لیکن اس کے باوجود مذاکرات ناکام ہوگئے روس کا اصل مطالبہ یہ ہے کہ یوکرین کو ناٹو کا رکن نہ بنایا جائے، اس طرح خدشہ ہے کہ ناٹو کی رسی میں بندھے ہوئے ہونے کی وجہ سے سارا یورپی اسلحہ روس کے اندر ہوتے ہوئے روس کے مقابلے پر آجائے گا اور ناٹو کے فوجی اڈے بھی قائم ہوسکتے ہیں۔ اب جب کہ روس نے امریکا کی بات نہیں مانی تو امریکا روس کا غصہ بھارت پر ٹیرف بڑھا کر اُتار رہا ہے اس کا کہنا یہ کہ بھارت روس سے تیل خرید رہا ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں مہنگے داموں بیچ رہا ہے اور روس اس کی آمدنی سے یوکرین میں عوام کو مار رہا ہے۔ ٹرمپ نے حماس سے کہا کہ وہ یرغمالیوں کو چھوڑدے اور ہتھیار ڈال دے حماس والے نہیں مانے تو اپنا غصہ دوحا پر اُتارا حملے کی آگاہی ہونے کے باوجود اپنے اتحادی کو خبر نہ کی۔
اسی طرح جب وہ برطانیہ کے دورے پر گئے تو انہوں نے وزیراعظم برطانیہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں دورانِ گفتگو ایک عجیب بات کہہ دی کہ ہمیں بگرام ائر بیس نہیں چھوڑنا چاہیے تھا ہم اس کو واپس لینا چاہتے ہیں۔ یہ بات تو ٹرمپ نے اتنی آسانی سے کہہ دی کہ جیسے بگرام ائر بیس ہمیشہ سے امریکا کے زیر کنٹرول رہا ہو انہوں نے محض خیرسگالی کے طور پر افغانستان کو تحفے میں دے دیا، اب وہ اپنا دیا ہوا تحفہ واپس لینا چاہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بگرام ائر بیس امریکی فوجوں کا گڑھ یا ایسا مرکز تھا جہاں سے وہ پورے افغانستان کو کنٹرول کررہا تھا یہ کئی کلومیٹرز پر پھیلا ہوا ہے صرف 2 کلومیٹر تو اس کا رن وے ہے دفاتر ہیں کچھ رہائشی علاقے ہیں اسلحے کا بہت بڑا ڈپو ہے۔ ایک قسم کی بہت بڑی ملٹری امپائر تھی۔ 2021 میں دوحا مذاکرات میں امریکا نے کہا تھا کہ ہم صرف بگرام ائر بیس اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں لیکن طالبان کا دوٹوک جواب تھا کہ ہم بیس سال تک اور جنگ لڑ لیں گے لیکن اپنی ایک انچ زمین نہیں چھوڑیں گے چونکہ امریکا بھی تھک چکا تھا وہ کسی طرح افغان بلا سے جان چھڑانا چاہتا تھا اس لیے پھر اس ائر بیس کے لیے زیادہ زور نہیں دیا۔
ٹرمپ کے جو دل میں ہے وہ کھل کر صاف کہہ دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ بگرام ائر بیس سے ایک گھنٹے کے فاصلے وہ جگہ ہے جہاں چین اپنے ایٹمی تجربات کرتا ہے اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے لیکن پھر بھی انہوں نے دل کی ساری باتیں نہیں کیں، چین کے ایٹمی مرکز کے علاوہ ایران پر بھی نظر رکھنے کا پروگرام ہے کہ کہیں وہ چین کی معاونت سے کوئی ایسی ایٹمی پیش رفت کرلے جو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہو اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات کے تناظر میں پاکستان پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے بعد پورے افغانستان پر نظر ازخود رہے گی۔ آپ نے وہ لطیفہ تو سن ہی رکھا ہوگا کہ ایک لڑکے سے پوچھا کہ تمہاری شادی کا معاملہ کہاں تک پہنچا اس نے کہا پچاس فی صد کام ہو گیا ہے آدھا باقی ہے۔ پوچھا کیا مطلب میں تو تیار ہوں لڑکی کی طرف سے ابھی ہاں نہیں ہوئی۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کے بگرام ائر بیس دوبارہ حاصل کرنے کے لیے افغانستان سے مذاکرات جاری ہیں اوول آفس میں صحافیوں سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ بگرام فوجی ائر بیس کی اہمیت بہت زیادہ ہے ہم بگرام ائر بیس واپس لینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ائر بیس امریکا کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس علاقے سے صرف ایک گھنٹے کی پرواز کے فاصلے پر ہے جہاں چین اپنے جوہری ہتھیار تیار کرتا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق بگرام ائر بیس پر محدود تعداد میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر غور کیا جارہا ہے اور ان مذاکرات کی قیادت امریکی نمائندہ خصوصی ایڈم بوبلر کررہے ہیں۔
دوسری طرف طالبان حکومت نے بگرام ائر بیس کو دوبارہ حاصل کرنے کی امریکی دھمکیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو ہمارے اڈے واپس چاہئیں تو اگلے 20 سال مزید لڑنے کے لیے تیار ہیں بیرونی فوج کی موجودگی بحال کرنے کی کسی بھی کوشش کی صورت میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ پیش رفت امریکی صدر کی جانب سے بگرام بیس واپس نہ کرنے کی صورت میں افغانستان کو دی گئی سنگین نتائج کی دھمکی کے بعد سامنے آئی ہے۔ چینی خبر رساں ادارے شنوا کی رپورٹ کے مطابق افغان وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد نے میڈیا سے گفتگو میں اس اسٹرٹیجک ائر بیس کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش کا جواب دیتے ہوئے کہا واضح رہے کہ ملا یعقوب امارت اسلامیہ افغانستان کے بانی امیر ملا عمر مجاہد کے فرزند ہیں۔ 79 سالہ امریکی صدر نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر افغانستان بگرام ائر بیس ان لوگوں کو واپس نہیں دیتا جنہوں نے اسے بنایا تھا یعنی امریکا کو، تو بہت بری چیزیں ہونے والی ہیں۔ افغان وزارت خارجہ کے سیاسی ڈاریکٹر ذاکر جلالی نے امریکی واپسی کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان کبھی بھی اپنی سرزمین پر غیر ملکی افواج کو قبول نہیں کرتے اور واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی مکالمے میں دوبارہ فوجی قبضے کا معاملہ خارج ہونا چاہیے۔ بگرام ائر بیس سب سے پہلے روس نے 1950 میں بنایا تھا۔ نائن الیون کے بعد جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو بگرام ائر بیس کو مزید وسعت دی اس کی تعمیر اور تزئین و آرائش میں کروڑوں ڈالر خرچ کیے ایک وقت میں یہاں ایک لاکھ امریکی فوج تھی۔ ٹرمپ کا یہ کہنا غلط ہے کہ یہ ائر بیس چین کے ہاتھ میں ہے، یہ براہ راست افغان حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ بی بی سی کا ایک ادارہ بی بی سی ویریفائی ہے جو خبروں کی تحقیق کرتا ہے اس نے بھی کہا ہے کہ یہ ائر بیس چین کے کنٹرول میں نہیں ہے۔
دونوں طرف کا موقف سامنے آگیا امریکا کی خواہش اور افغانستان کا بہت واضح اور صاف انکار اس گتھی کو مزید پیچیدہ بنارہا ہے۔ اب کیا ہوگا میں سمجھتا ہوں پاکستان پر ایک آزمائش آنے والی ہے۔ امریکا پاکستان پر دبائو ڈالے گا کہ افغانستان کو مذاکرات پر آمادہ کیا جائے۔ ہمارا انکار ٹرمپ کے غصے اور جھنجھلاہٹ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ اب پرویز مشرف کے دور کا پاکستان ہے اور نہ ٹرمپ کا نائن الیون والا غصہ۔ پاکستان کے انکار سے یہ ہوسکتا ہے کہ ٹی ٹی پی اور مجید بریگیڈ جو آئے دن کوئی نہ کوئی ایسی کارروائی کررہے ہیں جس سے پاکستانی فوجی اور افسران شہید ہورہے ہیں انہیں اس وقت افغانستان کی مجبوراً حمایت و سرپرستی، انڈیا کی کھلی حمایت کے ساتھ اب شاید امریکا کی خاموش حمایت بھی حاصل ہوجائے۔ اس کے علاوہ اگر امریکا نے براہ راست افغانستان پر کوئی جارحیت کی اور اپنی فوجیں اُتاریں تو چین اور روس افغانستان کی مدد کو آسکتے ہیں اس طرح یہ خطہ ایک بار پھر خدا نہ خواستہ بڑی قوتوں کے درمیان جنگ کا میدان بن جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغانستان کو کہا ہے کہ انہوں نے کرنے کی کہا کہ رہا ہے ہے اور کے بعد نے کہا کے لیے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔