Jasarat News:
2026-06-03@05:32:41 GMT

بگرام ائر بیس دو۔ ٹرمپ، ایبسلوٹلی ناٹ۔ طالبان

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر کچھ عرصے کے بعد ایسے متنازع بیان دے دیتے ہیں یا اپنا ایسا منصوبہ ظاہر کرتے ہیں جس کے پورا ہونے کا ایک فی صد بھی امکان نہیں ہوتا پھر جب ان کی کہی ہوئی بات ناکام ہوجاتی ہے اور ان کا منصوبہ ادھورا رہ جاتا ہے تو وہ پھر کسی کا غصہ کسی پر اتارتے ہیں۔ مثلاً انہوں نے بڑا سینہ پھلا کر کہا تھا کہ وہ روس اور یوکرین کی جنگ بند کرادیں گے اور اس کے لیے الاسکا میں روسی صدر کا عظیم الشان استقبال بھی کیا تھا لیکن بات نہ بن سکی حالانکہ یو کرین کے کچھ علاقے جن پر روس کا دعویٰ تھا اس کو واپس دینے پر آمادگی ظاہر ہوگئی تھی لیکن اس کے باوجود مذاکرات ناکام ہوگئے روس کا اصل مطالبہ یہ ہے کہ یوکرین کو ناٹو کا رکن نہ بنایا جائے، اس طرح خدشہ ہے کہ ناٹو کی رسی میں بندھے ہوئے ہونے کی وجہ سے سارا یورپی اسلحہ روس کے اندر ہوتے ہوئے روس کے مقابلے پر آجائے گا اور ناٹو کے فوجی اڈے بھی قائم ہوسکتے ہیں۔ اب جب کہ روس نے امریکا کی بات نہیں مانی تو امریکا روس کا غصہ بھارت پر ٹیرف بڑھا کر اُتار رہا ہے اس کا کہنا یہ کہ بھارت روس سے تیل خرید رہا ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں مہنگے داموں بیچ رہا ہے اور روس اس کی آمدنی سے یوکرین میں عوام کو مار رہا ہے۔ ٹرمپ نے حماس سے کہا کہ وہ یرغمالیوں کو چھوڑدے اور ہتھیار ڈال دے حماس والے نہیں مانے تو اپنا غصہ دوحا پر اُتارا حملے کی آگاہی ہونے کے باوجود اپنے اتحادی کو خبر نہ کی۔

اسی طرح جب وہ برطانیہ کے دورے پر گئے تو انہوں نے وزیراعظم برطانیہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں دورانِ گفتگو ایک عجیب بات کہہ دی کہ ہمیں بگرام ائر بیس نہیں چھوڑنا چاہیے تھا ہم اس کو واپس لینا چاہتے ہیں۔ یہ بات تو ٹرمپ نے اتنی آسانی سے کہہ دی کہ جیسے بگرام ائر بیس ہمیشہ سے امریکا کے زیر کنٹرول رہا ہو انہوں نے محض خیرسگالی کے طور پر افغانستان کو تحفے میں دے دیا، اب وہ اپنا دیا ہوا تحفہ واپس لینا چاہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بگرام ائر بیس امریکی فوجوں کا گڑھ یا ایسا مرکز تھا جہاں سے وہ پورے افغانستان کو کنٹرول کررہا تھا یہ کئی کلومیٹرز پر پھیلا ہوا ہے صرف 2 کلومیٹر تو اس کا رن وے ہے دفاتر ہیں کچھ رہائشی علاقے ہیں اسلحے کا بہت بڑا ڈپو ہے۔ ایک قسم کی بہت بڑی ملٹری امپائر تھی۔ 2021 میں دوحا مذاکرات میں امریکا نے کہا تھا کہ ہم صرف بگرام ائر بیس اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں لیکن طالبان کا دوٹوک جواب تھا کہ ہم بیس سال تک اور جنگ لڑ لیں گے لیکن اپنی ایک انچ زمین نہیں چھوڑیں گے چونکہ امریکا بھی تھک چکا تھا وہ کسی طرح افغان بلا سے جان چھڑانا چاہتا تھا اس لیے پھر اس ائر بیس کے لیے زیادہ زور نہیں دیا۔

ٹرمپ کے جو دل میں ہے وہ کھل کر صاف کہہ دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ بگرام ائر بیس سے ایک گھنٹے کے فاصلے وہ جگہ ہے جہاں چین اپنے ایٹمی تجربات کرتا ہے اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے لیکن پھر بھی انہوں نے دل کی ساری باتیں نہیں کیں، چین کے ایٹمی مرکز کے علاوہ ایران پر بھی نظر رکھنے کا پروگرام ہے کہ کہیں وہ چین کی معاونت سے کوئی ایسی ایٹمی پیش رفت کرلے جو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہو اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات کے تناظر میں پاکستان پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے بعد پورے افغانستان پر نظر ازخود رہے گی۔ آپ نے وہ لطیفہ تو سن ہی رکھا ہوگا کہ ایک لڑکے سے پوچھا کہ تمہاری شادی کا معاملہ کہاں تک پہنچا اس نے کہا پچاس فی صد کام ہو گیا ہے آدھا باقی ہے۔ پوچھا کیا مطلب میں تو تیار ہوں لڑکی کی طرف سے ابھی ہاں نہیں ہوئی۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کے بگرام ائر بیس دوبارہ حاصل کرنے کے لیے افغانستان سے مذاکرات جاری ہیں اوول آفس میں صحافیوں سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ بگرام فوجی ائر بیس کی اہمیت بہت زیادہ ہے ہم بگرام ائر بیس واپس لینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ائر بیس امریکا کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس علاقے سے صرف ایک گھنٹے کی پرواز کے فاصلے پر ہے جہاں چین اپنے جوہری ہتھیار تیار کرتا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق بگرام ائر بیس پر محدود تعداد میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر غور کیا جارہا ہے اور ان مذاکرات کی قیادت امریکی نمائندہ خصوصی ایڈم بوبلر کررہے ہیں۔

دوسری طرف طالبان حکومت نے بگرام ائر بیس کو دوبارہ حاصل کرنے کی امریکی دھمکیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو ہمارے اڈے واپس چاہئیں تو اگلے 20 سال مزید لڑنے کے لیے تیار ہیں بیرونی فوج کی موجودگی بحال کرنے کی کسی بھی کوشش کی صورت میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ پیش رفت امریکی صدر کی جانب سے بگرام بیس واپس نہ کرنے کی صورت میں افغانستان کو دی گئی سنگین نتائج کی دھمکی کے بعد سامنے آئی ہے۔ چینی خبر رساں ادارے شنوا کی رپورٹ کے مطابق افغان وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد نے میڈیا سے گفتگو میں اس اسٹرٹیجک ائر بیس کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش کا جواب دیتے ہوئے کہا واضح رہے کہ ملا یعقوب امارت اسلامیہ افغانستان کے بانی امیر ملا عمر مجاہد کے فرزند ہیں۔ 79 سالہ امریکی صدر نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر افغانستان بگرام ائر بیس ان لوگوں کو واپس نہیں دیتا جنہوں نے اسے بنایا تھا یعنی امریکا کو، تو بہت بری چیزیں ہونے والی ہیں۔ افغان وزارت خارجہ کے سیاسی ڈاریکٹر ذاکر جلالی نے امریکی واپسی کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان کبھی بھی اپنی سرزمین پر غیر ملکی افواج کو قبول نہیں کرتے اور واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی مکالمے میں دوبارہ فوجی قبضے کا معاملہ خارج ہونا چاہیے۔ بگرام ائر بیس سب سے پہلے روس نے 1950 میں بنایا تھا۔ نائن الیون کے بعد جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو بگرام ائر بیس کو مزید وسعت دی اس کی تعمیر اور تزئین و آرائش میں کروڑوں ڈالر خرچ کیے ایک وقت میں یہاں ایک لاکھ امریکی فوج تھی۔ ٹرمپ کا یہ کہنا غلط ہے کہ یہ ائر بیس چین کے ہاتھ میں ہے، یہ براہ راست افغان حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ بی بی سی کا ایک ادارہ بی بی سی ویریفائی ہے جو خبروں کی تحقیق کرتا ہے اس نے بھی کہا ہے کہ یہ ائر بیس چین کے کنٹرول میں نہیں ہے۔

دونوں طرف کا موقف سامنے آگیا امریکا کی خواہش اور افغانستان کا بہت واضح اور صاف انکار اس گتھی کو مزید پیچیدہ بنارہا ہے۔ اب کیا ہوگا میں سمجھتا ہوں پاکستان پر ایک آزمائش آنے والی ہے۔ امریکا پاکستان پر دبائو ڈالے گا کہ افغانستان کو مذاکرات پر آمادہ کیا جائے۔ ہمارا انکار ٹرمپ کے غصے اور جھنجھلاہٹ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ اب پرویز مشرف کے دور کا پاکستان ہے اور نہ ٹرمپ کا نائن الیون والا غصہ۔ پاکستان کے انکار سے یہ ہوسکتا ہے کہ ٹی ٹی پی اور مجید بریگیڈ جو آئے دن کوئی نہ کوئی ایسی کارروائی کررہے ہیں جس سے پاکستانی فوجی اور افسران شہید ہورہے ہیں انہیں اس وقت افغانستان کی مجبوراً حمایت و سرپرستی، انڈیا کی کھلی حمایت کے ساتھ اب شاید امریکا کی خاموش حمایت بھی حاصل ہوجائے۔ اس کے علاوہ اگر امریکا نے براہ راست افغانستان پر کوئی جارحیت کی اور اپنی فوجیں اُتاریں تو چین اور روس افغانستان کی مدد کو آسکتے ہیں اس طرح یہ خطہ ایک بار پھر خدا نہ خواستہ بڑی قوتوں کے درمیان جنگ کا میدان بن جائے گا۔

 

جاوید احمد خان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افغانستان کو کہا ہے کہ انہوں نے کرنے کی کہا کہ رہا ہے ہے اور کے بعد نے کہا کے لیے

پڑھیں:

انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت امریکی محکمۂ خزانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہونے

والے بینک اکاؤنٹس بند کرے۔

ٹرمپ نے 2 جون کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حکم ان بینکوں، کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدف بناتا ہے جن کے ذریعے مجرم

عناصر انسانی اسمگلنگ، منشیات کی تجارت، غیر قانونی امیگریشن اور منظم جرائم پیشہ گروہوں سے وابستہ رقوم منتقل کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن اور غیر ملکی دھوکے باز ہر سال امریکی ٹیکس دہندگان سے اربوں ڈالر لوٹ لیتے ہیں۔

ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق ایسے بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہوں یا جن میں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو دی جانے والی سرکاری امداد رکھی جا

رہی ہو، انہیں بند، ضبط یا بحقِ سرکار تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔

President Trump announced that he has signed a new Executive Order aimed at cracking down on financial fraud and illegal immigration.

The order directs the Treasury Department to restrict banks, credit cards, and financial institutions from being used to support human smuggling,… pic.twitter.com/01rOIAWCxI

— Open Source Intel (@Osint613) June 2, 2026

صدر ٹرمپ کے مطابق وہ بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کو سہولت فراہم کرنے یا غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملنے والی فلاحی امداد محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، بند کر دیے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے امریکا سے باہر جانے والے اربوں ڈالر کے بہاؤ کو روکا جا سکے گا۔

محکمۂ خزانہ کی کارروائیاں

وائٹ ہاؤس اور محکمۂ خزانہ کے مطابق جرائم پیشہ تنظیمیں امریکی مالیاتی نظام کو غیر قانونی رقوم منتقل کرنے اور چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ نئے حکم نامے کا مقصد بینکنگ سطح پر

ان نیٹ ورکس کی رسائی ختم کرنا ہے۔

اسی تناظر میں مارچ 2026 میں محکمۂ خزانہ نے میکسیکو کے سینالوا کارٹیل سے وابستہ ایک منی لانڈرنگ نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

مزید پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع

حکام کا الزام تھا کہ منشیات فروش فینٹانائل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پہلے کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتے اور پھر یہ رقوم کارٹیل کے آپریٹرز تک پہنچائی جاتیں۔

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مارچ 2026 میں کہا تھا کہ محکمۂ خزانہ دہشتگرد کارٹیلز اور ان کے فینٹانائل اسمگلنگ نیٹ ورکس کو نشانہ بناتا رہے گا۔

مسئلے کا حجم

امریکی حکام کے مطابق مسئلہ کافی وسیع ہے۔ محکمۂ خزانہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس مبینہ طور پر 312 ارب ڈالر سے زائد رقوم

امریکی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کر چکے ہیں۔

حکام نے مالیاتی نظام کو مزدوروں کی اسمگلنگ سے بھی جوڑا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ٹرانس جینڈر بچوں کی جنس تبدیلی کے علاج پر پابندی لگا دی

اپریل 2025 میں امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای نے ریاست اوہائیو میں ایک مبینہ 126 ملین ڈالر مالیت کے غیر قانونی افرادی قوت فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ

آپریشن سے منسلک اثاثے ضبط کیے تھے۔

آئی سی ای کے مطابق اس نیٹ ورک نے تقریباً 40 فرضی کمپنیوں کے ذریعے غیر دستاویزی کارکنوں کو ملازمت اور رہائش فراہم کی، جن میں سے بہت سے افراد میکسیکو کے راستے امریکا

اسمگل کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق اس دوران لاکھوں ڈالر بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور لگژری اشیا کے ذریعے منتقل کیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسمگلنگ نیٹ ورکس امیگریشن امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایگزیکٹو آرڈر دہشتگرد ریاست اوہائیو صدر ٹرمپ فینٹانائل کریڈٹ کارڈ محکمہ خزانہ منی لانڈرنگ وائٹ ہاؤس

متعلقہ مضامین

  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی