Daily Mumtaz:
2026-06-03@03:02:04 GMT

ٹیلر سوئفٹ کو ہراسانی کا سامنا، سیکیورٹی سخت کردی گئی

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

ٹیلر سوئفٹ کو ہراسانی کا سامنا، سیکیورٹی سخت کردی گئی

عالمی شہرت یافتہ پاپ اسٹار ٹیلر سوئفٹ نے اپنی جان کو درپیش حقیقی خطرات کے پیش نظر سیکیورٹی کے انتظامات میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہ اقدامات محض تشہیر یا شہرت کےلیے نہیں، بلکہ ایک مبینہ اسٹاکر برائن جیسن ویگنر کے سنگین خطرے کے باعث کیے گئے ہیں، جس کے خلاف گلوکارہ نے عدالت سے عارضی پابندی حاصل کر رکھی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں ٹیلر سوئفٹ کے غیر معمولی رویے نے مداحوں میں تجسس پیدا کیا تھا، جب انہوں نے ایروہیڈ اسٹیڈیم میں بلٹ پروف اسکرین کے پیچھے داخلہ لیا۔ ابتدا میں اسے کسی نئے البم یا اعلان کا حصہ سمجھا گیا، لیکن قریبی ذرائع نے انکشاف کیا کہ یہ دراصل سیکیورٹی کے انتہائی اقدامات تھے جو ممکنہ خطرے کے پیش نظر اٹھائے گئے۔

ذرائع کے مطابق ٹیلر سوئفٹ اسٹاکر کی خطرناک حرکات کی وجہ سے شدید تشویش کا شکار ہیں۔ ان کی سیکیورٹی ٹیم مسلسل الرٹ ہے اور اگر کوئی سنگین خطرہ محسوس ہو تو فوری طور پر پروموشنل پلانز میں تبدیلی کی جاتی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ویگنر پر الزام ہے کہ وہ 2024 کے وسط سے سوئفٹ کا پیچھا کر رہا ہے، حتیٰ کہ اس نے ان کے لاس اینجلس والے گھر میں ناجائز طریقے سے داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔

یہ پہلا موقع نہیں جب ٹیلر سوئفٹ کو اس قسم کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ماضی میں بھی انہیں متعدد بار اسٹاکرز کی جانب سے ہراساں کیا جا چکا ہے۔ موجودہ صورت حال نے ان کی نجی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث انہیں اپنے روزمرہ کے معمولات اور پیشہ ورانہ مشاغل میں بھی تبدیلیاں کرنی پڑ رہی ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس قسم کے معاملات میں احتیاط انتہائی ضروری ہے، خاص طور پر جب مشہور شخصیات کی جان کو حقیقی خطرہ لاحق ہو۔ ٹیلر سوئفٹ کی ٹیم نے اس سلسلے میں تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات یقینی بنائے ہیں۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ٹیلر سوئفٹ

پڑھیں:

بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر

اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔

ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔

اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی