سندھ کابینہ میں ردو بدل متوقع، سعید غنی سے بلدیات کی وزارت واپس لینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
سندھ کابینہ میں رد و بدل کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جس کے تحت سعید غنی کی وزارت میں تبدیلی متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے وزرا کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں سعید غنی، جام خان شورو اور اسماعیل راہو بھی شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر محنت شاہد تھہیم کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جبکہ ان کی جگہ بدین سے منتخب ایم پی اے اسماعیل راہو کو کابینہ میں شامل کرنے کا امکان ہے۔ اسی طرح سعید غنی سے محکمہ بلدیات کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ جام خان شورو کو اضافی طور پر محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کا قلمدان دینے کی تجویز زیر غور ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔