پیرس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 ستمبر2025ء)فرانس کے صدر ایمانویل میکروں نے کہا ہے کہ فرانس اور سعودی عرب کی شراکت داری سے اقوام متحدہ کے 142 ارکان نے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے ووٹ دیا۔عرب ٹی وی کے مطابق انہوںنے کہا کہ سعودی عرب کی کوششوں اور تعاون سے کامیابی مل رہی ہے اور یہ ایک تاریخی مرحلہ ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیزی سے کام ہو رہا ہے۔

اس سے سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت مضبوط ہوگئے ہیں، اسی وجہ سے نیو یارک میں کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ ہوا اور فلسطین ایشو کو حل کرنے پر زور دیا گیا۔ایمانویل میکروں نے زور دے کر کہا کہ نیو یارک کانفرنس کا اعلامیہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تعلق کے نتیجے میں سامنے آیا، تاکہ غزہ میں جنگ بندی ہو سکے۔

(جاری ہے)

یہ ایک جامع اور قابل عمل فریم ورک ہے، جس کے ذریعے دو ریاستی حل کا نفاذ ممکن ہوگا،خطے میں امن و سلامتی کا ثمر سب کو ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ دستاویز ایک ایسے خاکے کا اظہار ہے جو غزہ میں جنگ کے خاتمے کا عزم ظاہر کرتی ہے اور ایک پر امن اور پائیدار حل کے راستے کی طرف لے جاتی ہے۔انہوں نے اس امر کو بھی اجاگر کیا کہ سعودی عرب اور فرانس کے درمیان دوستانہ تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔ان کی بنیاد مشترکہ ترجیحات ہیں۔ خصوصا انسانی ترقی، ثقافت، معیشت، ٹیکنالوجی اور سکیورٹی سے متعلق معاہدے دونوں کے درمیان اہم ہیں۔

فرانسیسی صدر نے اس بات کو اجاگر کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات علاقائی و بین الاقوامی استحکام کے لیے مفید ہیں، ان کے یہ خیالات ان کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے ساتھ ہی سامنے آئے ہیں۔ جہاں انہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور اس بڑے ہونے والے گروپ کا حصہ بن گئے جس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم