بیرونی ممالک میں سکھوں کو نشانہ بنانے کیلئے را کے مجرمانہ نیٹ ورکس بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
بیرون ممالک میں سکھوں کو نشانہ بنانے کیلئے "را" کے مجرمانہ نیٹ ورکس بے نقاب ہوگیا جب کہ انتہا پسند مودی کی ریاستی سرپرستی میں عالمی سطح پردہشت گردی کے شواہد سامنے آ گئے۔
عالمی سطح پر بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو گیا۔ بلوم برگ اور دی وائر جیسے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را" (RAW) بیرونِ ملک سکھ رہنماؤں کو قتل کرنے کے لیے منظم نیٹ ورکس چلا رہی ہے، جنہیں مودی حکومت کی براہِ راست سرپرستی حاصل ہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی فیڈرل کورٹ نیویارک میں جمع کروائی گئی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش میں ایک بھارتی سرکاری اہلکار ملوث تھا، امریکی محکمۂ انصاف نے گزشتہ برس نکھل گپتا نامی بھارتی شہری پر خالصتان تحریک کے سرگرم رہنما ء گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق نکھل گپتا کو قتل کی ہدایات "را" کے افسر وکاش یادیو نے دی تھیں۔ نکھل گپتا کو جون 2023 میں جمہوریہ چیک سے گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ امریکی استغاثہ نے گپتا اور یادیو کی واٹس ایپ گفتگو، اسلحہ کی فراہمی، اور دیگر شواہد کی بنیاد پر وسیع تر بین الاقوامی سازش کو بے نقاب کیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہی نیٹ ورک کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجار کے قتل میں بھی ملوث ہے۔ پنوں اور نجار دونوں خالصتان تحریک کے حامی اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے شدید ناقد تھے۔
دی وائر کے مطابق، وکاش یادیو نے نہ صرف ہتھیار فراہم کرنے کی پیشکش کی بلکہ ہوائی جہاز کے ذریعے ان کی ترسیل کا انتظام بھی کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ قتل کی منصوبہ بندی پاکستان یا نیپال میں بھی کی گئی تھی۔
ان انکشافات کے بعد عالمی سطح پر بھارت کے نام نہاد "جمہوری تشخص" پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مودی حکومت ریاستی دہشت گردی کو ایک پالیسی کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جس کے ذریعے مخالف آوازوں کو عالمی سطح پر خاموش کرایا جا رہا ہے۔
بیرون ممالک میں سکھوں کو نشانہ بنانے کیلئے "را" کے مجرمانہ نیٹ ورکس بے نقاب
انتہاء پسند مودی کی ریاستی سرپرستی میں عالمی سطح پردہشت گردی کے شواہد سامنے آ گئے
مودی سرکار بھارت سمیت دنیا بھر میں ریاستی سرپرستی میں سکھوں کے قتل میں مصروف
عالمی جریدے بلوم برگ کے مطابق؛… pic.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عالمی سطح پر میں سکھوں نیٹ ورکس کے مطابق کے قتل قتل کی
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے