ویتنام میں شدید طوفان ’بوالوئی‘ کے پیش نظر چار بڑے ایئرپورٹس بند کر دیے گئے اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ طوفان آج شب ویتنام کے وسطی حصے سے ٹکرائے گا، جس کی رفتار 133 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے باعث تیز ہوائیں، شدید بارشیں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات لاحق ہیں۔ شمالی اور وسطی صوبوں میں یکم اکتوبر تک 600 ملی میٹر بارش اور دریاؤں کی سطح میں 9 میٹر تک اضافہ متوقع ہے۔

وسطی صوبے ہاتین میں 15 ہزار سے زائد افراد کو منتقل کیا گیا ہے جبکہ فوجی دستے ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہیں۔ وِنہ شہر میں رہائشی اپنے گھروں کو محفوظ بنانے اور کشتیوں کو باندھنے میں مصروف ہیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق دا نانگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت چار ایئرپورٹس بند کیے گئے ہیں اور کئی پروازوں کے اوقات تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں اسکول بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل اسی طوفان نے فلپائن میں تباہی مچائی تھی، جہاں 10 افراد جاں بحق اور متعدد علاقے زیرِ آب آ گئے تھے۔ گزشتہ برس ویتنام میں طوفان یاگی سے تقریباً 300 افراد ہلاک ہوئے اور 3.

3 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ