میو ہسپتال سے اغواء ہونے والی بچی بحفاظت بازیاب، خاتون ملزمہ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 ستمبر2025ء) پولیس نے میو ہسپتال سے اغواء ہونے والی بچی کو بحفاظت بازیاب کرکے خاتون ملزمہ کو گرفتار کرلیا۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے دو دن کی معصوم بچی کے اغوا کا فوری نوٹس لیا تھا جس کے بعد ایس پی انویسٹی گیشن سٹی کی سربراہی میں بچی کی بازیابی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔
انچارج انویسٹی گیشن اور ایس ایچ او تھانہ گوالمنڈی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے خاتون ملزمہ رابعہ کو گرفتار کر کے بچی کو بحفاظت بازیاب کروا لیا۔ ملزمہ چند روز قبل میو ہسپتال کے بچہ وارڈ سے بچی کو اغواء کر کے لے گئی تھی۔ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ملزمہ نے لوگوں کو دکھانے کے لیے بچی کو اغواء کیا۔ ملزمہ کی مدد سی سی ٹی وی کیمروں اور ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے حاصل کی گئی معلومات سے ہوئی۔(جاری ہے)
ایس پی فرحت عباس نے کہا کہ بچی کی بازیابی پر والدین نے پولیس ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ایس ایس پی محمد نوید نے کہا کہ آپریشن اور انویسٹی گیشن پولیس کی مشترکہ ٹیموں کی محنت کا نتیجہ ہے اور ملزمہ کو مضبوط چالان کے بعد قانونی کارروائی کے تحت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ معصوم بچوں کے اغوا کے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان بھی کیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انویسٹی گیشن بچی کو ایس پی
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔