لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 ستمبر2025ء) پولیس نے میو ہسپتال سے اغواء ہونے والی بچی کو بحفاظت بازیاب کرکے خاتون ملزمہ کو گرفتار کرلیا۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے دو دن کی معصوم بچی کے اغوا کا فوری نوٹس لیا تھا جس کے بعد ایس پی انویسٹی گیشن سٹی کی سربراہی میں بچی کی بازیابی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

انچارج انویسٹی گیشن اور ایس ایچ او تھانہ گوالمنڈی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے خاتون ملزمہ رابعہ کو گرفتار کر کے بچی کو بحفاظت بازیاب کروا لیا۔ ملزمہ چند روز قبل میو ہسپتال کے بچہ وارڈ سے بچی کو اغواء کر کے لے گئی تھی۔ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ملزمہ نے لوگوں کو دکھانے کے لیے بچی کو اغواء کیا۔ ملزمہ کی مدد سی سی ٹی وی کیمروں اور ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے حاصل کی گئی معلومات سے ہوئی۔

(جاری ہے)

ایس پی فرحت عباس نے کہا کہ بچی کی بازیابی پر والدین نے پولیس ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ایس ایس پی محمد نوید نے کہا کہ آپریشن اور انویسٹی گیشن پولیس کی مشترکہ ٹیموں کی محنت کا نتیجہ ہے اور ملزمہ کو مضبوط چالان کے بعد قانونی کارروائی کے تحت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ معصوم بچوں کے اغوا کے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان بھی کیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انویسٹی گیشن بچی کو ایس پی

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار