UrduPoint:
2026-06-02@23:30:15 GMT
بیشترعالمی پرانی کمپنیاں پاکستان چھوڑ چکی، اسٹاک مارکیٹ میں بھی دلچسپی کم ہو رہی ہے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
پشاور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 02 اکتوبر 2025ء ) مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ بیشتر عالمی پرانی کمپنیاں پاکستان چھوڑ چکی، اسٹاک مارکیٹ میں بھی دلچسپی کم ہو رہی ہے۔ مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے جیلیٹ پاکستان لمیٹڈ کا آپریشنز بند کرنے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پالیسیوں میں عدم تسلسل پاکستان کو مسلسل نقصان پہنچا رہا ہے۔
اپریل 2022 کے بعد کا دور موجودہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے پاکستان کے لیے سب سے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ اس دور میں بیشتر عالمی پرانی کمپنیاں پاکستان چھوڑ چکی ہیں۔اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکیوں کی دلچسپی کم ہو رہی ہے۔ ریکارڈ انڈیکس اضافے کے باوجود غیر ملکی مسلسل اسٹاک مارکیٹ سے نکل رہے ہیں۔(جاری ہے)
صرف جنوری 2025 سے اب تک غیر ملکی 248 ملین امریکی ڈالر سے زائد کا سرمایہ نکال چکے ہیں۔
مشیر اطلاعات،بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید برآں کابینہ میں ردوبدل عمران خان کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے، سیاسی رنگ دے کر مخالفت کرنے والے دراصل عمران خان کے وژن کے مخالف ہیں، ملاقات میں عمران خان نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو حکومتی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ہدایت دی تھی، عمران خان نے وزیر اعلیٰ پر مکمل اعتماد کا اظہار اور کابینہ میں ردوبدل کا اختیار دیا تھا، کابینہ میں تبدیلی حکومتی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے لیے کی گئی ہے، کابینہ میں تبدیلی وزیر اعلیٰ کا صوابدیدی اختیار ہے، وہ کسی بھی وقت ردوبدل کر سکتے ہیں،موجودہ حالات میں بہترین ٹیم تشکیل دینا وقت کی ضرورت ہے،عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،کابینہ میں ردوبدل ایک مثبت اور جمہوری عمل ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسٹاک مارکیٹ کابینہ میں کے لیے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔